ھزارہ یونیورسٹی ۔ ارباب اختیار ات کی توجہ کی منتظر

تحریر: پروفیسر محمد صادق (فزکس ڈیپارٹمنٹ ، ھزارہ یونیورسٹی مانسہرہ
تعلیم انسانوں کی قسمت بدل دیتی ہے۔تعلیم روشنی کا مینار اور ذندگی کی راہوں کو اجاگر کرنے والی وہ قوت ہے جسکا نعم البدل کچھ نہیں ہو سکتا۔تاریخ کے دریچے سے جھانکا جائے تو آج کی ترقی یافتہ قومیں ماضی قریب میں اپنی درسگاہوں کو بڑھانے اور ترقی دینے میں ہمہ تن مصروف رہی ہیں۔جبکہ دوسری طرف تاج محل اور دوسری یا دگاریں بنائی جاتی ہیں۔یہی طرز عمل قوموں کے عروج وذوال کی تاریخ رقم کرتا ہے۔ پاکستان میں یونیورسٹی سطح ابھی چند سالوں میں عام اور ترقی کی طرف گامزن ہوئی ہے۔بیشمار مسائل ہماری قومی ذندگی میں پھن پھیلائے سر اٹھائے ہماری بے بسی کا منہ چڑا رہے ہیں۔ یوں تو تعلیم کا پھیلاؤ ہو رہا ہے مگر اسکا کوئی معیار بھی ہے کہ نہیں اسکی فکر کم کم ہی ہے۔ڈگریاں باٹنے والی یونیورسٹیوں کی نئی کھیپ تو تیار ہو رہی ہے مگر با مقصد تعلیم ناپید ہے۔ مغربی دنیا میں قومی مسائل کے حل کی تلاش میں یونیورسٹیوں کے متعلقہ ڈیپارٹمنٹس کو دئیے جاتے ہیں۔ جس سے ایک طرف تحقیق کے شعبے میں تیز رفتار با مقصد ترقی ہوتی ہے اور دوسری طرف پروفیسر اور طلباء کو اپنی صلاحیتوں کو بڑھانے اور منوانے میں مدد ملتی ہے۔یوں یہ تعلیمی آماجگاہیں قوم و ملک کی ترقی میں اہم رول ادا کرتی ہیں۔ہمارے ہاں چند انگلیوں پر گنی جانے والی یونیورسٹیاں ابھی اس معیار کو نہیں چھو سکی ہیں۔مگر گائے بگائے ان چند یونیورسٹیوں میں جلنے والے چراغ جب شعلہ فگن ہوتے ہیں تو اقبال یاد آتے ہیں۔
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی ذرخیز ہے ساقی
یونیورسٹی کینوس میں نئی ابھرنے والی یونیورسٹیوں میں ھزارہ یونیورسٹی جو کہ عملی طور پر 2002 میں معرض وجود میں آئی۔ تیز رفتاری سے ترقی کی منزلیں طے کر رہی ہے۔شروع کے چند سال تو اسکا ظاہری اور انضباتی ہار و سنگار کرنے میں گذر گئے۔سب سے پہلے وائس چانسلر ڈاکٹر اشرف عدیل صاحب ہوئے۔جو اپنے حصے کا کام کرنے کے بعد ڈاکٹر داؤد اعوان کو چارج دے کر الگ ہوئے۔اسکے بعد 2005 میں آنے والے ذلزلے نے اس سرزمین کو یوں جھنجھوڑا کہ اسے سنبھالنے کیلیئے نئے وائس چانسلر ڈاکٹر احسان علی آئے انہوں نے یونیورسٹی کو یونیورسٹی کا قیام دینے کیلئے بہت کچھ کیا۔ڈیپارٹمنٹس کی تعداد سہولتوں کے ساتھ بڑھائی۔سکالر شپ کلچر روباعمل ہوا۔بہت سے لیکچرر بیرون ملک اعلٰی تعلیم کیلئے سدہارے۔ جو اب واپسی کے سفر پر ہیں۔ یوں فیکلٹی کا حصار بڑھنے لگا۔سائنسی نمائشوں، سیمینارز وغیرہ کو بھی عام کیا گیا۔ اور یونیورسٹی یونیورسٹی لگنے لگی۔ نام سے کام کی طرف یوں یہ سفر شروع ہوا۔ کسی یونیورسٹی کو مکمل طور پر قائم ہونے میں ایک وقت درکا ر ہوتا ہے۔اور یہ عمل قدم با قدم چل کر ہی پائیہ تکمیل تک پہنچتا ہے۔ڈاکٹر احسان علی اپنے حصے کا اہم و نمایاں کام کر کہ ایک اور نئی یونیورسٹی بنانے مردان سدہار گے۔اسکے بعد یونیورسٹی کے چوتھے وائس چانسلر ڈاکٹر سخاوت شاہ صاحب آئے اور انہوں نے اداروں کو مضبوط کرنے کے عمل سے ابتداء کی کیونکہ پچھلے دور میں بہت سے کام شروع تو ہو چکے تھے مگر انکو انضباتی دائرے میں لانا ابھی باقی تھا۔جو کہ اداروں کو دوام بخشنے کیلئے بہت ضروری تھا۔چند ایسے کام جو معیار میں بہتری لانے کا سبب بنے۔ جنکی وجہ سے لکھے جانے والے تھیسز میں پلیچرزم کی روک تھام، معقول حد تک لائی گئی۔ اب ھزارہ یونیورسٹی کے ایم فل، پی۔ایچ۔ڈی کے تھیسیز بین اقوامی معیار کے بن چکے ہیں اور یہ اقدام معیار اعلٰی تعلیم کو بلند کرنے میں بڑے معاون ثابت ہوئے۔ پرجیکٹس کی تعداد بہتر ماحول کر کے بڑھائی گئی۔ اب یونیورسٹی اپنے کئی پراجکٹس شروع کئے ہوئے ہے۔جن میں چاول کی دنیا میں سب سے ذیادہ پیداوار دینے والی قسم کو متعارف کرایا گیا۔ باٹنی اور جینیٹکس میں بہت سے ایسے پرا جیکٹس مکمل کئے گئے جو یقیناًآئندہ آنے والے دنوں میں قوم وملک کیلئے ایک سرمایہ ثابت ہوں گے۔دنیا ساری میں اور بالخصوص ہمارے اپنے ملک میں توانائی کا بڑھتا ہوا استعمال اسکی قلت میں اضافہ کرتا جا رہا ہے۔ ملکی سطح پر مربوط انرجی پالیسی نہ ہونے کی وجہ سے یہ مسئلہ گھمبیر ہوتا جا رہا ہے۔کوئی بھی انرجی کانفرنس ہوتی ہے اس میں موجود وسائل کو پورے طور پر عمل میں لانے اور انکے استعمال میں کفائیت شعاری لانے پر بیانات داغنے پر اکتفاء کر کہ یہ فرض ادا کر دیا جاتا ہے۔مسئلے کا یہ حل ہمیں مستقبل کے آنے والے گھمبیر مسائل سے آنکھ بند کرنے کے مترادف ہے۔ اس وقت ضرورت اس عمل کی ہے کہ توانائی کے غیر روائیتی ذرائع کو استعمال میں لانے کا عمل شروع کیا جائے۔ان وسائل میں ونڈ انرجی، شمسی توانائی، چھوٹے پن بنلی کے منصوبے ، بائیو گیس، بائیو ڈیزل کے الگ الگ اور مشترکہ منصوبے شروع کئے جا سکتے ہیں۔ ھزارہ یونیورسٹی کے فورم سے کچھ بنیادی نوعیت کے عملے منصوبے شروع کئے گئے ہیں جن میں سولر ونڈ کا ہائیپرڈ ماڈل جو 200واٹ بجلی بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے یونیورسٹی میں کام کر رہا ہے۔اسی طرح کے چند اور پراجیکٹس بھی وائس چانسلر ڈاکٹر سخاوت شاہ کی خصوصی ہدایات پر تکمیل کی طرف گامزن ہیں۔جن میں اگلے دو تین ماہ میں سولر ہائیپرڈ کار جلد ہی نمائش کیلئے پیش کی جائے گی۔انرجی کی کمی کے سا تھ ماحولیاتی آلودگی بھی ہمارے لئے چیلنج ہے اور سولر کار اسی آلودگی کو کم کرنے کا ذریعہ ہو سکتی ہے۔طلباء کے معیار تعلیم میں بہتری کا ایک معیار ان کے لیے قابل اعتماد امتحانانی نظام ہے۔جسکے ذریعے طلباء کی صلاحیتوں کو ٹھیک طور پر پرکھا جاتا ہے۔ یہ امتحان ہی تو ہوتا ہے جو طلباء کو محنت کرنے پر مجبور کرتا ہے۔اگر اس نظام میں خامیاں ہوں تو اسے پاس کرنے کے چور دروازے طلباء کو اصلی تعلیم سے کوسوں دور لے جاتے ہیں۔دوسری طرف گفر امتحانات ٹھیک ٹھاک بغیر کسی رعایت کے ہورہے ہوں تو طلباء محنت کرتے نظر آتے ہیں۔ ھزارہ یونیورسٹی نئی تعلیمی پالیسی پر عمل درآمد کے سلسلے میں ملک کی تمام یونیورسٹیوں میں سرفہرست ہے ۔نئی تعلیمی پالیسی کے تحت بی ایس چار سالہ پروگرام کا اجراء سب کے لیے کم سے کم مدت میں دو عمل لانا ضروری ہے۔ مگر اس سمت میں ٹھوس اقدامات صرف خیبر پختون خواہ میں سیکرٹری تعلیم و ڈاریکٹر کالجز کی کاوشوں اور ھزارہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر سخاوت کی عملے کوششوں سے ھزارہ بھر کے سرکاری کالجوں میں ممکن ہوا۔ تمام ملک کے علاوہ خیبر پختون خواہ میں بھی ھزارہ یونیورسٹی بی ایس چار سالہ پروگرام کو لاگو کرنے میں سرفہرست ہے۔نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ہریپور پوسٹ گریجویٹ کالج نے سال 2011 میں بی۔اے، بی۔ایس۔ سی پرانے پروگراموں میں داخلہ دینے کی بجائے صرف بی ایس چار سالہ پروگرام میں داخلے دیے۔اور یہ بات تب ہے ممکن ہوسکی کہ ھزارہ یونیورسٹی نے اس ضمن میں بھرپور تعاون کیا اور مکمل رہنمائی کی۔مستقبل قریب میں ھزارہ یونیورسٹی وائس چانسلر ڈاکٹر سخاوت شاہ کی ھدایت پر ایک ورکشاپ منعقد کرے گی۔جس میں سسٹم کو مزید اسطوار کرنے کی تدابیر پر غور و فکر کیا جائیگا۔ اور ساتھ ہی اس بات پر خصوصی غور کیا جائیگا کہ بی۔ایس چارسالہ پروگرام کے دوران دو سالہ کورس مکمل کرنے والے طلباء و طلبات کو ایسوسی ایٹ ڈگری دی جائے جو پرانی بی۔اے، بی ایس سی ڈگری کے مساوی ہو گی۔ یو ں طلباء کا یہ خدشہ بھی دور ہو جائیگا کہ ڈ گری چار سالہ بعد میں ہی ملے گی۔اس اقدام سے بی۔ایس چار سالہ پروگرام پر عمل درآمد میں مزید آ سانیاں پید ا ہو ں۔اور یوں طلباء اس پروگرام سے نالاں ہونے کے بجائے اسکی طرف کھنچے چلے آئیں گے۔ بی۔ایس چار سالہ پروگرام دنیا بھر میں معیار تعلیم قرار پائے ہوئے اور ہم ہیں کہ اس راہ پر چلنے سے ہچکچاتے رہے۔اب یہ عمل شروع تو ہو چکا ہے مگرحکومتی سطح پر اسکی پشت پناہی بہت ضروری ہے۔وہ یونیورسٹیاں جو اسے لیٹر اینڈ سپرٹ میں نافذ کیے ہوئے ہیں انکی مالی مدد ہائیر ایجوکیشن کمیشن گرانٹ بڑھا کر کرے اور منسٹری آ ف ایجوکیشن خصوصی گرانٹ کی صورت میں کرے۔ھزارہ یونیورسٹی نے اپنے کیمپس حویلیاں میں ہوا ،شمسی توانائی کا سروے ایک سالہ ڈیٹا لیکر کیا تھا۔جسے بعد میان پاکستان کونسل آف رینیوایبل انرجی ٹیکنالوجی اسلام آباد کے ایک بورڈ آف ڈاریکٹر نے موقع پر آ کر معائینہ بھی کیا تھا اور اسکا (P.C.1)جو کہ چھ کروڑ روپے کی لاگت سے 120کلوواٹ کا سولر ونڈ ہائیبرڈ انرجی پارک بنانے کیلئے تیاری کے مراحل میں تھا۔مگر اسی دوران منسٹری میں تبدیلی آ گئی اور پروگرام ٹھپ ہو گیا۔ استدعاء ہے کہ اس تعلیمی اور توانائی کے قومی نوعیت کے پرگرام کو در با عمل لانے کیلئے منسٹری آ ف سائنس اینڈ ٹینکنالوجی اسلام آباد فیصلہ فرمائے۔ اس پراجیکٹ کے مکمل ہونے پر ایک تو یونیورسٹی حویلیاں کمپس کی بجلی کی ضروریات پوری ہو جائیں گی اور ساتھ ہی منسلکہ گاؤں کو بھی بجلی مل جائیگی۔ یہ پراجیکٹ شاہراہ ریشم پر ہونے کی وجہ سے عوام کو اپنی طرف متوجہ کوے گا۔ اور ساتھ ہی غیر روائیتی توانائی میں ایم ۔فل اور پی ایچ ڈی کرنے والے سکالر کیلئے ایک لیبارٹری بھی ہو گی۔ خدا کرے ارباب اختیاررت اس پر متوجہ ہوں۔ اور یوں ھزارہ یونیورسٹی سے پھوٹنے والی ئی کرنیں ملکی اجھالے میں اضافے کا سبب بنیں۔
Abbottabad: Football Tournament Started at Kunj Ground Abbottabad
Pre budget Seminar stressed the need for allocation to districts on the basis of needs
ABBOTTABAD: Participants of the pre-budget seminar have asked the government for need based budget and stressed maximum allocation on Education, health and water & sanitation, being the priority sectors for development. The one day seminar “Citizens voice for development” organized by the Finance and Planning departments of Khyber Pakhtunkhaw and supported by Department for International Development (DFID), UK was attended by Secretary Finance Sahibzada Saeed Ahmad, Chief Economist P&DD,
Usman Gul , Former Chief Secretary KPK Khalid Aziz. Members Provincial Assembly beside representatives of Civil society organizations, Chamber of Commerce and Journalists here at local hotel on Friday.
Participants lauded the holding of pre-budget seminar where through open debate, voice of the masses were included and it was demanded that such type of practice to be organized from province to district and Tehsil level and formation and recommendations through consultations to be included in the main budget.
Provincial secretary finance admitted the weakness of the government to overcome the fiscal challenges and said that despite all efforts, KPK government is unable to curtail the non developmental expenditure for which he told that in only salaries and pension, KPK liability raised from 54 billion to 94 billions in four years time, due to security problem, “we could not met our target to improve our revenue generation but now we had set our path after the NFC award, we had revised our Economic Growth Strategy and three areas are now
set to bring change in productivity, socio-economic sector and social sector”, he claimed. Sahibzada Saeed Ahmed assured to develop the fool proof system of check and balance on the utilization of funds on the projects for which he sought the moral support of civil society to keep vigilant eyes on the spending of national exchequer.
Secretary added that foreign donors are more then satisfied with the system of KPK government and European Union is going to provide funding to the tune of 40 billion Euro for different projects after the successful completion of education sector project. He added that revenue base is going to be increase and in Power and OIL and Gas sector KPK government is showing remarkable improvement and sooner these areas will become major source of provincial revenue. Chief Economist in his briefing gave a detailed presentation highlighting that Budget making processes including transparent and participatory. He claimed that as Districts are main vehicle of Service Delivery their input required. The challenges facing the Govt. were highlighted and it was clarified that there are plenty of funds after the NFC award and devolution to the Provinces.
Participants from Battagram, Kohistan, Haripur and other areas put forwarded some suggestions and some of participants lashes out for neglecting these areas and claimed disparity while allocating funds to the backward areas. Khalid Aziz in his briefing told that 22 billions rupees were spent on security which needs reshuffling . He also stressed upon the speedy investigation while leads to speedy justice and close relations between police and public was stressed.Khalid Aziz highlighted his work in the Security Sector as according to him there can be no Development without Security . He has suggested 9 areas for Govt intervention to improve Security.
MPA Barrister Javed Abbassi demanded the formation of a powerful commission that would minutely examine the requirements of all districts before making the budget. He pointed out that his constitutioncy was without Girls High or Middle Schools. He also complained that District Schemes stop at the Secretary level should be included in the budget.
Ali Asgher of Omar Asgher Development Foundation criticized the Govt for spending in the Home District of the Chief Minister and ignoring the backward area of Kohistan. He also complained about scholarship allocation being entirely spent in Mardan.
Members from the civil society presented statistics about past trends in budget allocation to districts. It was identified that poor districts like Kohistan has always ignored during allocation of development budget. There was a consensus between the elected representatives and members of the civil society that there is a need for a uniform system of budget allocation to districts. This will help reduce the sense of deprivation among the least developed districts. Renowned Bioenvironmental Manager, Sardar Taimur Hyat Khan highlighted need for more funding in Green and Brown Sectors. He assured the participants that electricity can be generated from methane emissions of Liquid Waste as well as conversion of Biodegradable Solid Waste to Compost. There is a need to complete the Abbottabad Solid Waste Project as it is delayed since many years. The green sector needs input of Biomelioration measures including Slope Stabilization using advanced polymers. Household Nutritional Food Security is a great
challenge that must be faced he stated.
Safdar Zaman Shah and Tehsin-ul-Haq of the Haripur Chamber of Commerce highlighted the problems of Hattar Industrial Estate especially infrastructure and demanded that such a revenue generating area should be served adequately. Sungi Development Foundation offered to host grass roots workshops for budget input. Rashid Javed an eminent journalist suggested that the workshop was held too late for proper input, also Statistical Data should be provided to the public for their consumption. There was an agreement amongst the participants that Education, health and water and sanitation are priority sectors for development. Apart from additional funds for these sectors it is need
of the hour to improve the performance and quality of existing service provision in these sectors .
Japanese Funded Gravity flow water scheme in doldrum.
Cantonment authorities have stopped the work. Japanese contractor contacted higher authorities.
ABBOTTABAD: The fate of the gravity flow drinking water supply scheme worth of 4.5 billion rupees, funded by Japanese government is in doldrums as Cantonment Board Abbottabad has forcibly abandoned its activities in its area and asked the District Coordination Officer Abbottabad to sign new agreement for the water distribution.
Member Provincial assembly from Abbottabad Innayatullah Khan Jadoon , District Coordination Officer Abbottabad Syed Imtiaz Shah, Executive Engineer public Health Engineering Department & focal person of the project Shahid Mehmood have confirmed that Cantonment authorities have stopped the ongoing work despite assurance for provision of water to entire cantonment area. While the Japanese contractor as well as consultants have reportedly contacted their higher authorities and expressed their deep concern over the issue. Interestingly an agreement has been already signed by District government with Cantonment board on stamp paper in which modalities have been defined.
Present water supply system in the city is based on tube wells and about 100 tube wells have been dug in a limited aquifer. Due to fast depletion of ground water potential, life span of tube well is very short and existing facilities have become inadequate to meet the present day water demand besides their unbearable recurring expenditure. The cost of the Gravity flow drinking water supply scheme is Rs.4280.105 Million including Japanese Grant-in-Aid Rs.3702.737 Million with Local component (Federal/Provincial) Rs.577.368 Million.
The contractor of the project is Tobishima & Dai Nippon (J.V) while consultant is another Japanese firm Nihon Suido Consultants Co. Ltd. The project will serve the T.M.A Abbottabad (old Municipal committee limits i/c Kehal, Malikpura & central urban) and Service Unit Nawansher (old town committee limits)
Salhad, Sheikhulbandi, Jangi Mirpur, Dobattar, BandaPhagwarian, Banda Dilazak
BandaGhazan, LambaMaira, Derawand
The system is based on the three out of ten tributaries of river Daur which include Namli Maira Nullah, Giaya Nullah and Bagh/Bandi Nullah. The collective discharge of these four streams was kept under observation for three months during 2009-10 and found more than 500 liter/sec, whereas the planned intake is 200 liters/sec.
Cantonment executive officer Rana Kashif when contacted has also confirmed that they have stopped the development work just for the reason that Cantonment Board has been neglected and not included in the project. While talking with The News on telephone, Cantonment Executive officer told that they have provided NOC with the pre condition that water would be provided to cantonment area as well . He further told that Cantonment board has developed a new agreement in this regard and asked the DCO for signing it but the DCO has dis-own it. He claimed that they will not allow them to work until agreement would be signed by DCO Abbottabad. Executive officer is of the view that as the water is crucial issue in the area, therefore they have asked the DCO to include Cantonment area in the project. He claimed that former DCO Zaheer-ul-islam has committed with them to sign the memorandum of understanding.
District Coordination Officer (DCO) Abbottabad Syed Imtiaz Shah when contacted has denied that he has disowned any agreement and claimed that said agreement would be wetted from provincial law department. He further told the despite assurance of providing water , cantonment authorities have stopped the developmental work which has created bad impression on Japanese as well. He was of the view that all modalities and agreements have already been made before the implementation of the project.
The XEN Public Health Engineering department Shahid Mehmood who is focal person of the Gravity flow project told The News that they have started the developmental work after getting NOCs from all relevant departments including Cantonment Board Abbottabad . He informed that after completion of 70 % work, Cantonment Board has stopped the developmental work and asked to include their representation in Project steering committee and provision of drinking water to cantonment area. He told that they have given them assurance that Cantonment area is already included in the project and their nominee will be included in the project stearing committee but despite all project work has been stopped by cantonment board and get away their instruments. XEN PHED informed that Cantonment authorities have been demanding written assurance from district government in this regard for which DCO has been getting the approval of the provincial law department.
MPA from Abbottabad innayatullah Khan Jadoon who has played active role in the implementation of the gravity flow drinking water scheme has termed the act of cantonment board unjustified and claimed that they tried their best to convince concerned authorities but all in vain. He said that said project has taken too much time in the processes & approval and needs early completion. He claimed that people of the city have been facing acute water shortage and it is need of the hour for early completion of the gravity flow project.
تحریک طالبان کے نام پر ڈاکٹر عامر الطاف سے72لاکھ وصول کرنیوالا گروہ گرفتار
ایبٹ آباد:طالبان بن کر ڈاکٹر عامر الطاف کو بلیک میل کرکے بھاری رقوم وصول کرنے والا گروہ پولیس نے گرفتارکرلیا۔ ڈاکٹر عامر الطاف کے بااعتماد ملازمین یہ کام کر رہے تھے : پولیس تفصیلات کے مطابق پیر کے روز ڈی ایس پی کینٹ راجہ عبدالصبور اور ایس ایچ او تھانہ میرپور انسپکٹر قمر حیات نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران بتایا کہ ایبٹ آباد کے معروف معالج ڈاکٹر عامر الطاف نے اپنا ایک گھر اپنے ملازم ظہور ولد عجب گل کے ذریعے خالی کروایا۔ اور اس کام کے لئے انہوں نے ظہور کو بائیس لاکھ روپے کی ادائیگی کی۔ کچھ عرصہ بعد ڈاکٹر عامر الطاف نے مذکورہ گھر کو فروخت ساڑھے چار کروڑ روپے کے عوض فروخت کردیا۔ ظہور نے شور شرابا کرکے ڈاکٹر عامر الطاف سے مزید پچاس لاکھ روپے وصول کئے۔
پولیس کے مطابق ظہور کی نیت میں فتور آگیا اور اس نے نمک حرامی کرتے ہوئے اپنے مالک کو لوٹنے کا پروگرام بنالیا۔ جس کے بعد انہوں نے تحریک طالبان کا نام استعمال کرتے ہوئے ڈاکٹر عامر الطاف کو کالیں کروا کر ساڑھے چار کروڑ روپے کی رقم طلب کی۔ ڈاکٹر عامر الطاف کی رپورٹ پر پولیس نے اس کیس کی تفتیش شروع کردی۔ بعد ازاں طے شدہ پروگرام کے تحت ڈاکٹر عامر الطاف شملہ پہاڑی پر ملزمان کو 36 لاکھ روپے کی رقم ایک مخصوص جگہ پر چھوڑ کر آئے۔ جس کے بعد ہارون ولد عبدالقیوم سکنہ ملکپورہ اور اشتیاق ولد عبدالرشید سکنہ اپر ملکپورہ ان پیسوں کو اٹھانے کے لئے آئے کہ پولیس نے انہیں گرفتار کرکے تفتیش کی۔ جنہوں نے انکشاف کیا کہ وہ ظہور اور امجد کے کہنے پر یہ کام کر رہے ہیں۔ جس کے بعد پولیس نے ظہور کے گھر پر چھاپہ مارا اور ساڑھے پندرہ لاکھ روپے کی رقم برآمد کرکے ظہور اور اس کے ساتھ امجد کو گرفتار کرلیا۔ پولیس کے مطابق ملزمان ڈاکٹر عامر الطاف کے تمام گھریلو اور کاروباری رازوں سے واقف تھے۔ ظہور کو ڈاکٹر عامر الطاف نے اپنی حفاظت کے لئے رکھا ہوا تھا۔ پولیس نےمقدمہ درج کرلیا۔
PAKISTAN TEHREK-E-INSAF, ABBOTTABAD CORNER MEETING
صاف پانی کی فراہمی کے لئے جیکا کے تعاون سے ایک بڑا منصوبہ شروع کیا گیا ہے

ایبٹ آباد: نیشنل منیجمنٹ کالج لاہور کے گیارویں سنئیر منیجمنٹ کورس کے شرکاء کے وفد نے کمشنر ہزارہ محمد خالد خان عمر زئی سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ ڈی سی او ایبٹ آبادسید امتیاز حسین شاہ بھی موجود تھے۔ کمشنر نے وفد کو ہزارہ کے جغرافیائی ،تاریخی،سیاسی ، ثقافتی پس منظر اور انتطامی امور کے بارے میں تفصیلی طور پرآگاہ کیا۔انہوں نے بتایا کہ پہاڑوں ،مرغزاروں ،آبشاروں پر مشتمل حسین وادیوں کی سر زمین ہزارہ پر مختلف قبائل آباد ہیں۔ جو قدیم ثقافتی اور تہذیبی رشتوں میں منسلک پر امن اورمحنتی لوگ ہیں۔ مرکزی دارالحکومت سے قریب ہونے اور امن و امان کے لحاظ سے پر امن ہونے کی وجہ سے یہ علاقہ اندروں اور بیرون سیاحوں کے لئے انتہائی پر کشش ہے ۔گذشتہ خوفناک زلزلہ کے باعث ترقی کا عمل متاثر ہوا ۔ مقام افسوس ہے کہ اس علاقے میں ترقی اور بحالی کے منصوبوں کے لئے قائم کردہ محکمہ ’’ایرا‘‘ متوقع کارکردگی نہیں دکھا سکا۔ اس نے سوائے محدود ے چند چھوٹے موٹے منصوبوں کے کوئی بڑا منصوبہ مکمل نہیں کیا۔ کمشنر نے ہزارہ کے اہم ترین ترقیاتی منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ حسن ابدال سے مانسہرہ تک 110 کلو میٹر طویل شاہراہ ایکسپریس وے منصوبے پر کام شروع ہونے والا ہے پہلے مرحلے میں مالکان اراضی کو معاوضوں کی ادائیگی ہو چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ منصوبہ اہل ہزارہ کے لئےlife line کی حثییت رکھتا ہے جبکہ ایبٹ آباد کے عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لئے جیکا کے تعاون سے ایک بڑا منصوبہ شروع کیا گیا ہے ۔کمشنر نے وفد کے شرکاء سے کہا کہ اس طرح کے بین الصوبائی وفود قومی یکجہتی کا ذریعہ بنتے ہیں جس کی ہمیں شدید ضرورت ہے۔ سرکاری افسران کو چاہیے کہ وہ اپنے فرائض منصبی کو احسن انداز میں سرانجام دیں تا کہ عوام کو درپیش مسائل جلد حل ہو سکیں اور عوام کو ریلیف مل سکے۔
MPA Naeema Nisar on her visit to Benazir Shaheed Women and Children Hospital Abbottabad alongwith DMS Dr Khalid Javed
S.E Engineering Council Wapda Protest
Abbottabad: S.E engineering council protest against Wapda Privitization at Abbottabad. Faqeer Moahmmad along with others engineering council Wapda Hazara Circle are addressing a Press Conference against the WAPDA Privatization at Abbottabad Press Club
Jamat-e-Islami CONFERENCE in ABBOTTABAD: Addressed by the JI Amir Munawar Hassan
لیاری کا رہائشی مشتاق ایبٹ آباد میں گرفتار
کینٹ پولیس ایبٹ آباد نے دو ساتھیوں سمیت لیاری کے رہائشی مشتاق کو گرفتار کر لیا

ایبٹ آباد: ایبٹ آباد پولیس کی کاروائی لیاری آپریشن کے بعد فرار ہونے والا انتہائی مطلوب ملزم مشتاق دو ساتھیوں سمیت گرفتار،مقدمہ درج ہونے کے بعد ملزم کا جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا گیا۔کینٹ پولیس نے حسن ٹاؤن میں ڈکیتی کی واردات کرنے والے ملزمان کی اطلاع پر کاروائی کی،جس پر ملزمان نے پولیس پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس میں پولیس کا ایک اہلکار بھی زخمی ہوا،پولیس نے انتہائی مطلوب لیاری کا ملزم مشتاق کودو ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیا،جس کا عدالت سے دس روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا گیا ہے، ملزم تھانہ بلوچ کالونی ساؤتھ زون کراچی کو تین سودو میں مطلوب تھا،جو لیاری آپریشن شروع ہوتے ہی فرار ہوکر ایبٹ آباد آگیا، پولیس نے دیگر دو ملزمان کیخلاف بھی مقدمہ درج کر لیا ہے۔
Closing Ceremony Sports Gala
ABBOTTABAD: Provincial Minister of Industry Syed Ahmad Shah distributing prizes at the end of Two Days Sports Gala which was held at Abbottabad Hockey Stadium on Saturday 5th May, 2012.
ہزارہ کے تمام اضلاع کو دوسرے ڈویژنوں کے مقابلے میں بہت زیادہ پسماندہ رکھا گیا
پشاور:مسلم لیگ (ن) کے اراکین و صوبہ ہزارہ کی قیادت کے لئے اپنی قرارداد خیبرپختونخواہ اسمبلی میں مشترکہ طور پر جمع کروا دی ہے۔ اس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ صوبہ ہزارہ کی انتظامی بنیادوں پر اشد ضرورت ہے۔یہ قرارداد ایم پی اے بیرسٹرجاوید عباسی، پیر صابر شاہ، سردار اورنگزیب نلوٹھہ، عنایت اللہ خان جدون، سردار شمعون یار خان اور عبدالستارخان نے جمع کروائی۔ قرار داد میں کہا گیا ہے کہ ہزارہ ڈویژن جو کہ قدرتی وسائل سے مالامال ہے لیکن ماضی کی ناانصافیوں سے ہزارہ کے عوام مشکلات کا شکار ہے۔ اور ان ناانصافیوں کی بدولت ہزارہ کی عوام نے الگ صوبے کی جدوجہد شروع کی جو گزشتہ حکومتوں کی طرف سے ہزارہ کو پسماندہ رکھنے ان کو ان کے جائز حقوق نہ دینے اور اپنے وسائل پر حق تلفی ہے۔
ہزارہ کے تمام اضلاع کو دوسرے ڈویژنوں کے مقابلے میں بہت زیادہ پسماندہ رکھا گیا جو کہ کسی طور پر بھی ہزارہ کی عوام کو قابل قبول نہیں ہے۔ نیا صوبہ بننے کے جو شرائط درکار ہیں ہزارہ ڈویژن ان تمام شرائط و معیار پر پورا اترتا ہے۔ لہٰذا یہ اسمبلی صوبائی حکومت سے سفارش کرتی ہے کہ وہ وفاقی حکومت سے اس عمل میں سفارش کرے۔ تاکہ آئین پاکستان میں ترمیم کرکے ہزارہ کے تمام اضلاع کو صوبے کا درجہ دیا جائے۔
DISTRICT BAR RESOLUTION
Demanded Implementation of Supreme Court Verdict:
ABBOTTABAD : District Bar Association Abbottabad in unanimous resolution has showed full sympathies with the superior court of Pakistan and demanded for the early implementation of the decision of Supreme Court regarding Prime Minister Syed Yousaf Raza Gilani otherwise once again a nationwide move to show solidarity with judiciary will be started for which pas examples to be taken into account.
An emergent meting of the District Bar Association was held at bar club on Thursday under the presidentship of Tahir Faraz Abbasi Advocate which was largely attended by the senior lawyers also. All of them express full faith and confidence and decided to stand for the upheld of rule of Law in the country and will resist with full power who will try to block the implementation of decisions of judiciary.
In another resolution passed against the Barrister Atiza Hassan, it was demanded that Pakistan’s senior most lawyer has criticized the decision of the supreme court for which they asked the Pakistan Bar Council to penalize the Atizaz Hassan for his misconduct against the judiciary and had also requested supreme court bar association to cancel the membership.
SPORTS GALA IN ABBOTTABAD FROM FRIDAY:
ABBOTTABAD :Malik Saad Memorial Trust is holding a two days Sports Gala at Abbottabad in which teams from different sports academies of Malik Saad Memorial Trust will take part.
DIG Hazara Dr.Naeem will perform opening ceremony to be held at hockey Stadium on Friday at 10.30 A.M. Director Sports KPK Tariq Mehmood is the organizing secretary of the event in which teams from different parts of KPK will take part.
Jamat-e-Islami CONFERENCE will be held on 8th May.
ABBOTTABAD :Jalsa Islami Inqalab conference will be held at Abbottabad on 8th May which will be addressed by the JI Amir Munawar Hassan alongwith central leaders Siraj-ul-Haq, Professor Ibrahim and others.
While giving details of the event to media in press conference held here on Thursday, Organizer of the event Mehboob Elahi told that in the conference beside the central leaders, all candidates of JI from Hazara division for the National and provincial assembly will also spoke at the occasion and this will be one sort of kick of election campaign of JI candidates in Hazara as well as in the province.
He also provided the details about the arrangements of the one of mega event which will be held at Jinnah Bagh.
AZAM SWATI termed resolution in NA has no legal impact:
ABBOTTABAD : Former federal minister and Central leader of Pakistan Tehrik-e-Insaf has remarked that resolution moved and passed by the National Assembly for Saraki province has no legal impact and is just a wasteful attempt by the prime minister Yousaf Raza Gilani and is nothing but to fool their voters.
This he said while addressing press conference at press club on Thursday.
He was accompanied by other leaders of TI including Dr.Azhar Khan Jadoon and Haq Nawaz Khan. While leveling serious charges of corruption and misappropriation of funds on the PPP lead government, Azam Khan Swati said that convicted prime minister is insulting the Supreme Court of Pakistan and also of Parliament as he has no moral ground to carry on the post of Prime Minister for which he told that now TI has decided to not give more time to the present government for which a protest rally will be held at Islamabad on 6th May to solidarity with the Supreme Court and Judiciary and 27th May march will ruin the government as TI will never sit till the ouster of the corrupt rulers.
Azam Khan Swati while advocating for Hazara Sooba said that all those who are thinking to create any other province before Hazara Sooba is living in fool’s paradise and they should keep in mind that it will be hard to chew if Asif Ali Zardari and others try to do this .
Baba asked PM not to confine him to Multan
ABBOTTABAD : Chairman of Tehrik-e-Sooba Hazara Sardar Haider Zaman has asked Prime Minister Syed Yousaf Raza Gilani not to confined himself to only his hometown “ Multan” for which he is raising demand of Sarieky Sooba and is ignoring the voice of people of Hazara who had sacrificed their lives for their prime demand .
While addressing a hurriedly called press conference here at press club on Thursday, Baba Haider Zaman said that PPP led government’s stepmother treatment with the people of Hazara will not be tolerated if Sarieky Sooba is created before the creation of Hazara province and that day will be the first day of civil obedience by the millions of Hazarawals living across the country .He again reminded prime minister Yousaf Raza Gilani not put on test the people of Hazara who had raised their voice when no one was talking about the Sarieky Province.
Baba lashes out at PPP and ANP collation for sidelining the core issue of people of Hazara and said that after the tabling the resolution for Sarieky Sooba in the National Assembly, we are of the view that Parliament is keeping deaf ear on the demand of the public and such kind of steps taken by the present government is creating hatterance among the people of Hazara and also of all those who are still neglected.
While replying question that PML (N) has also tabled the resolution for Hazara, Bahawalpur and FAT province, Baba said that currently both the parties are busy in war of words just to kill the time and are not sincere with the cause of Sarieky and Hazara Sooba and are trying to counter each other and are involved in doggy game.
Sardar Haider Zaman was accompanied by central leaders of TSH Sardar Fida, Waqar Nabi ,Abrar Saeed Swati and others.
پی پی پی اور ن لیگ میں نورا کشتی جاری ہے جس میں غریب ہزارہ وال پسا جا رہا ہے
صوبہ ہزارہ کی قرار داد پاس کئے بغیر سرائیکی صوبے کی قرار داد کی بھر پور انداز میں مذمت کرتے ہیں :بابا حیدر زمان
ایبٹ آباد :پیپلز پارٹی اور ن لیگ اپنے اپنے مفادات کے لئے عوام کو قربان کر رہئے ہیں، صوبوں کے قیام میں سب سے پہلے صوبہ ہزارہ ہونا چاہیے ،صوبہ ہزارہ کی قرار داد پاس کئے بغیر سرائیکی صوبے کی قرار داد کی بھر پور انداز میں مذمت کرتے ہیں ،صوبہ ہزارہ کا قیام وقت کی اہم ترین ضرورت ہے اس کے علاوہ کسی قسم کا کوئی آپشن قابل قبول نہیں ہے ،جس دن سرائیکی صوبے کے قیام کا باقائدہ اعلان کیا جائے گا اس دن سے پورے ملک کو جام کر دیں گے ،صوبہ ہزارہ اور سرائیکی صوبے کا بل سردخانے کی نظر کر دیا گیا ہے اس بل پر فوری طور پر عملدرآمد کیا جائے ،وزیر اعظم پورے ملک کے ہیں صرف سرائیکی کے وزیر اعظم نہیں ہیں ،جو بھی سیاسی جماعت ہزارہ کے ساتھ مخلص ہے وہ قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم کی جانب سے پیش کئے گئے بل کو پاس کروانے میں اپنا کردار ادا کرے ان خیالات کا اظہار تحریک صوبہ ہزارہ کے قائد بابا سردار حیدر زمان نے ایبٹ آباد پریس کلب میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا انہوں نے کہا کہ پی پی اور ن لیگ میں نورا کشتی جاری ہے جس میں غریب ہزارہ وال پسا جا رہا ہے ،انہوں نے کہا کہ صوبہ ہزارہ کی قرارداد فوری طور پر اسمبلی میں پیش کر کے پاس کروائی جا ئے بصورت دیگر ہزارہ سمیت پورے ملک کو جام کر دیں گے اور ہمارا اس وقت تک یہ احتجاج جاری رہئے گا جب تک صوبہ ہزارہ کا قیام عمل میں نہیں لایا جاتا اور ہم اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے ،بابا سردار حیدر زمان نے کہا کہ مسلم لیگ ن آج سرائیکی صوبے کے قیام کی قرارداد پاس ہونے کے فوراً بعد صوبہ ہزارہ سمیت چار صوبوں کے قیام کی قرار داد اسمبلی میں پیش کی ہے یہ لوگ عوام کو یہ بتائیں کہ صوبہ ہزارہ کے قیام کی قرار داد اس وقت کیوں پیش نہیں کی گئی جب تحریک کا آغاز ہوا تھا دو سال کے بعد دو گھنٹوں کے اندر مسلم لیگ کو پنجاب میں اپنے اقتدار کی ڈوبتی کشتی کو بچانے کے لئے چار نئے صوبوں کے قیام کا خیال آ گیا ہے اس موقع پر تحریک صوبہ ہزارہ کے سیکرٹری جنرل فدا حسین ،انجنئیر سلطان خان جدون ،سردار وقار بنی ،انجمن تاجران کے رہنما ممتاز خان ،سلیم روشن ،محمد نواز ،طاہر جمال ،حافظ عبدالوحید ،سلطان العارفین جدون ،محمد سجاد قریشی اور دیگر بھی موجود تھے ۔
APC & Soba Hazara Tareek Wheel-Jam Strike on 1st May-2012
یکم مئی کو اے پی سی کی طرف سے پہیہ جام ہڑتال ہوگی
ہڑتال پر امن ہو گی تا کہ ہمارا مطالبہ صوبہ ہزارہ اُجاگر ہو سکے
جہاری کس سے کوہستان تک پہیہ جام ہڑتال ہو گی اس میں ہم کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کریں گے۔ سردار یوسف

ایبٹ آباد:مرکزی اور صوبائی حکومت سے ہمارا مطالبہ ہے کہ وہ قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم کے بل کو بحث کے لیے لائے اور صوبہ ہزارہ کے قیام کو یقینی بنائیں ورنہ ہم یکم مئی کے بعد اس سے مزید سخت اقدامات اٹھائیں گے ۔ہمارا مطالبہ ہے کہ شہدائے ہزارہ کی ایف آئی آر بھی فل فور درج کی جائے ان خیالات کا اظہار سردار محمد یوسف چیئر مین تحریک ہزارہ نے سوموار کے روز کینٹ چوک میں پریس کانفرنس سے کرتے ہوئے کیا۔ اس پریس کانفرنس میں سردار محمد یعقوب، محمد اظہر ایڈوکیٹ ،نصیر خان جدون، رزاق عباسی، جنید قاسم ، گلزار عباسی، ولی محمد خان اور پیر شاہ کمال اور دیگر جماعتوں کے نمائندگان بھی شریک تھے۔سردار محمد یوسف نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے سرائیکی صوبہ کے اعلان اور شہدائے ہزارہ کے مقدس خون اور صوبہ ہزارہ کو نظر انداز کرنے کے خلاف اٹھارہ اپریل کی اے پی سی کے مطابق کل یک مئی کو جہاری کس سے کوہستان تک پہیہ جام ہڑتال ہو گی اس میں ہم کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کریں گے۔ صوبائی حکومت کی مشینری یا اس کی پے رول پر کام کرنے والوں نے اس ہڑتال کے خلاف پہلے کی طرح سازش کی تو تمام حالات کی ذمہ دار ی ان پر عائد ہو گی۔ہماری کال صرف پہیہ جام کی ہے جس کو کومیاب کرنے کے لیے ہزارہ بھر کے نوجوانوں کی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ صوبائی حکومت نے اگر بارہ اپریل کی تاریخ دہرائی تو عوامی جذبات کو کنٹرول کرنا شاہد کسی کے بس میں نہ ہو گا ہم مزید جانوں کے نظرانے دیں گے مگر کسی جابر کے آگے سر نہیں جھکائیں گے۔
بلوچستان کی سنگین صورتحال
محرومی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ عوام ریاست سے علیحدگی کی بات کرتے ہیں
سول ملٹری لیڈر شپ کو مل بیٹھ کر حل نکالنا چاہیے ،بلوچستان نہیں ٹوٹے گا۔ سلیم صافی

ایبٹ آباد: نامور صحافی اور جیو نیوز کے اینکر پرسن سلیم صافی نے بلوچستان کے حالات کو انتہائی خطرناک اور مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حالات کی سنگینی کے باوجود حکومتی سطح پر کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی جا رہی تاہم انھوں نے عندیہ دیا کہ بلوچستان کسی صورت بھی پاکستان سے علیحدہ نہیں ہو گا ۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے تنظیم برائے تحقیق و تعلیم ایبٹ آباد کے زیر اہتمام ’’بلوچستا ن کے حالات اور ہماری ذمہ داریاں ‘‘ کے موضوع پر ماڈ رن ایج کالج ایبٹ آباد میں منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی کثیر تعداد اس موقع پر موجود تھی ۔ ماڈرن ایج کالج کے پرنسپل واحد سراج نے سلیم صافی کو خوش آمدید کہا جبکہ ایلاف کلب ایبٹ آباد کے صدر ڈاکٹر محمد اکرم خان نے صدارتی خطبہ میں امت مسلمہ کو درپیش خطرات پر روشنی ڈالی۔سلیم صافی نے بلوچستان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی عوام میں محرومی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ وہ ریاست سے علیحدگی کی بات کرتے ہیں ۔انھوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ سیاسی قیادت نے اپنے آپ کو اس اہم معاملہ سے لا تعلق کر رکھا ہے اور لوٹ کھسوٹ میں مصروف ہے جبکہ عملی طور پر فوج اس معاملہ کو حل کر رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ سول ملٹری لیڈر شپ کو ایک دوسرے پر تنقید کرنے کے بجائے مل بیٹھ کر اس مسعلے کا حل نکالنا چاہیے ۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ موجودہ حالات کی خرابی میں سرداری نظام بھی ایک اہم وجہ تھی جس نے بلوچستان کی ترقی میں ہمیشہ رکاوٹ پیدا کی اور اپنی خامیوں کو ریاست کی طرف د ھکیل دیا۔ریاست کی رٹ کمزور ہونے کی وجہ سے بیرونی طاقتوں نے بھی بلوچستان کا رخ کیا اور معاملات کو مزید خراب کرنے کی کوشش کی ۔ ایک دوسرے سوال کے جواب میں انھو ں نے کہا کہ ماضی میں حکومتوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے سرداروں کو خوب خوش کیا جاتا رہا جس کا خمیازہ اب ہم بھگت رہے ہیں۔ انھوں نے اس بات کی نفی کی کہ کسی بھی بیرونی طاقت کے حق میں ہے کہ لسانی بنیادوں پر ملکوں کا قیام ہو۔لسانی اور فرقہ ورانہ فسادات کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ حکومت کی اصل توجہ ملکی سا لمیت ہونے کی وجہ سے فرقہ ورانہ کشیدگی پر خاطر خواہ توجہ نہیں دے سکتی اور بعض قوتیں غیر یقینی ملکی صورتحال کا فائدہ اٹھا کر اس طرح کے کھیل رچا رہی ہیں ۔
پاکستان پیپلز پارٹی ہزارہ کی خواتین کا وزیر اعظم پاکستان سے اظہار یکجہتی
ایبٹ آباد: پاکستان پیپلز پارٹی ہزارہ کی خواتین کا وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی ساتھ اظہار یکجہتی ۔ تفصیلات کے مطابق جمعہ کے روز پاکستان پیپلز پارٹی ہزارہ کی خواتین نے پریس کلب ایبٹ آباد کے سامنے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے جلوس نکالا جس کی قیادت ممبر صوبائی اسمبلی نعیمہ نثار کر رہی تھیں ۔خواتین کارکنوں نے بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر وزیراعظم کے حق میں نعرے درج تھے۔
ایبٹ آباد ،سپلائی بازار مانسہرہ روڈ پر شدید بارش کے باعث بدترین ٹریفک جام
پانی رہائیشی گھروں اور دکانوں میں گھس گیا، عوام مشکلات کا شکار
ایبٹ آباد:شدید بارش کی وجہ سے سپلائی بازار مانسہرہ روڈ ایبٹ آباد میں پانی لوگوں کے گھروں اور دکانوں میں داخل ہو گیا۔ تفصیلات کے مطابق آج سہہ پہر شدید بارش کی وجہ سے سپلائی اور اس کے ملحقہ علاقہ زیر آب آ گیا۔ نکاسی آب کے بہتر انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے پانی لوگوں کی گھروں میں داخل ہو گیا۔ قریشی پمپ سپلائی میں پانی کھڑا ہونے کی وجہ سے ٹریفک بند ہو گئی اور عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ یاد رہے کہ قریشی پمپ سپلائی کا وہ علاقہ ہے جہاں بارش کے بعد پانی کھڑا ہو جاتا ہے۔ متعلقہ محکمے اس مسعلے سے بخوبی آگاہ ہیں لیکن تا حال اس مسعلے کے حل کے لیے خاطر خواہ انتظامات کرنے سے قا صر ہیں ۔
اسامہ کے اہل خانہ کو سعودی عرب ڈی پورٹ کردیا گیا

اسلام آباد: القاعدہ کے مقتول رہنما اسامہ بن لادن کے اہل خانہ کو سعودی عرب ڈی پورٹ کردیا گیا۔ اسامہ کے اہل خانہ خصوصی طیارے سے سعودی عرب روانہ ہوگئے۔ وزارت داخلہ کے مطابق اسامہ کے اہل خانہ کوسعودی عرب ان کی مرضی کے مطابق ڈی پورٹ کردیاگیا۔ عدالت کے حکم پراسامہ کے اہل خانہ کوڈی پورٹ کرنے کے آرڈرزجاری کیے ۔اسامہ کے اہل خانہ کوگیسٹ ہاوس میں رکھاگیاجسے سب جیل قراردیاگیاتھا۔
300,000 hectares Forests lease out to Merlins Wood UK for 40 years
ABBOTTABAD : Allai Forest Management Council, an umbrella organization of the joint forest management committees has rejected the memorandum of understanding (MoU) between Forest Department of Khyber Pakhtunkhwa and Merlyn Woods , a London based project developer and termed it illegal & unlawful while demanding for the immediate cancellation of the agreement.
Shafiq-ur-rehman Yousafzai , a local development worker and ex chairman Allai Forest Management Council said that this initiatives on the part of KPK government is not only against the property rights but also is the violation of civil rights and extreme mis-use of official powers in the name of governance He claimed that under the Forest Ordinance 2002, this agreement is illegal because there is no provision in the Ordinance 2002 which allows forest department to lease out forests for the Sale of Carbon Credits, which is the main objective of the Merlyn Woods agreement with KPK Forest Department.
While providing facts , he told that Guzara Forest or privately owned forests (38% of KP’s forests), comprise of most of the forests in the districts of Haripur, Mansehra, Abbottabad, Kohistan and Batagram. There is no provision in the KP Forest Ordinance 2002 that allows the Forest Department to lease out Guzara Forests. Shafiq-ur-rehman told that total area under forest only in district Battagram is 77040 acres (31190 hectares), 616320 kanals in total with the Guzara Forest (Private property) 66 485 acres (86.29%) , Resumed land, reserved (disputed) 5883 acres (7.6%) and Non Merged area of Black Mountains 4472 acres (6%). He claimed that these facts and figures are self explanatory and if someone assume that these private forests belongs to a few local influential is absolutely not true and this unilateral and illegal decision without the consent of thousands of small forest owners is against the law and will ultimately lead to an un control unrest if not clarified at this early stage of the negotiation. He further stated that the government has taken the consent of some of the local influential’s who don’t have a single acre of forest in the revenue record and demanded termination of the agreement. He questioned that, if this MOU was in the best interest of the Guzara owners then why they were not consulted before its signing this is more than enough to prove that that the intensions of the government was no pro- small forest owners. Yousafzai further added that, if the government was keen in its intention then why they left kohistan where as official record the local communities/owners illigally cutted timber to the volume of 3400000 cft which means around 7500000 standing volume precious timber was cutted and allowed by the authorities to tranport it under FINE POLICY which was initiated during Sardar Mehtab’s tenure and then was carry forwarded by all the governments.
It may be recalled here that Forest department , Khyber Pakhtunkhwa has signed an MoU with Merlyn Woods Company Pvt (London UK) for leasing out in excess of 300,000 hectares for 40 years with grant in aid of Pound Sterling 12 million at a ratio of 20:80 of Pakistan’s most important tracts of forests for carbon credit sales/purchase under the Reducing Emission from Deforestation and Forest Degradation (REDD) Programme. The initiative has a special focus on job creation, skills training, increasing standards of living, alternative energy sources, improved health and education as well as biodiversity conservation.
The project has been developed in partnership with communities living in and around forest areas and the KP Forest and Wildlife Departments. The programme, which covers 300,000 hectares of threatened forest in the districts of Battagram, Swat and Mansehra, is Pakistan’s first REDD initiative and will lead to the creation of a provincial baseline. Merlins Wood has also initiated a similar programme in the Azad State of Jammu and Kashmir in Pakistan. The projects are paired with a higher-level effort to motivate broad support for REDD activities at the governmental level. The proposed project there will be over a region of 200,000 hectares.
وزیراعظم گیلانی کو توہین عدالت کیس میں سزا

اسلام آباد… سپریم کورٹ نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کیس میں سزا سنا دی۔اس بات کا فیصلہ سات رکنی بینچ نے کیا جس کی سربراہی جسٹس ناصر املک نے کی۔ سپریم کورٹ کے کے حکم پر وزیراعظم بھی عدالت میں موجود تھے۔ جسٹس ناصرالملک کی سربراہی میں 7 رکنی بنچ نے وزیراعظم کیخلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کے بعد گزشتہ روز فیصلہ جمعرات تک محفوظ کرتے ہوئے وزیراعظم کو بھی طلب کیا تھا۔گزشتہ روز سماعت کے دوران مقدمہ کے استغاثہ اٹارنی جنرل نے کہا تھا کہ وزیراعظم کیخلاف ثبوت ہے نا ہی خط لکھنے سے سوئس کیسز کھل سکتے ہیں۔۔ جبکہ وزیراعظم کے وکیل اعتزاز احسن نے جوابی دلائل میں کہا تھا کہ صدر وفاق کا حصہ اور مسلح افواج کے سپریم کمانڈر ہیں، ابھی سوئس حکام کو خط لکھنے پر اصرار نہ کیا جائے اور وزیراعظم کو بری کردیا جائے۔آج وزیراعظم کو عدالت کی برخاستگی تک کی سزا سنائی گئی۔
گیاری :موسم کی سختیاں جاری، مزید4مقامات کی نشاندہی

اسکردو: سیاچن محاذ کے گیاری سیکٹر میں برفانی تودے تلے دبے فوجیوں کو نکالنے کیلئے پاک فوج کا آپریشن ، موسمی سختیوں کے باوجود دن رات جاری ہے اور کھدائی کیلئے مزید چار مقامات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے ۔ آئی ایس پی آر کے مطابق گیاری سیکٹر میں تودے تلے دبے فوجیوں کو نکالنے کا آپریشن جاری ہے ، موسمی سختی کی وجہ سے کھدائی میں مصروف پلانٹ آپریشن میں سخت رکاوٹیں آرہی ہیں، آپریشن میں 24 گھنٹے جائزہ لینے میں مصروف ٹیموں نے مزید 4 مقامات کی نشاندہی کی ہے جبکہ نشاندہی کئے گئے مقامات پر سرچ آپریشن مں پیشرفت کی جارہی ہے، آرمی انجینئرز نے تودہ گرنے والی جگہ اور پانی کی گزر گاہ کے سطح کا ٹوپوگرافک سروے مکمل کرلیا ہے۔
لاہور:بم دھماکے کا زخمی بچہ دم توڑ گیا، ہلاکتیں3ہوگئیں
ریلوے… لاہور ریلوے اسٹیشن پر بم دھماکے کا زخمی سات سالہ بچہ اسپتال میں دم توڑ گیا، دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد تین ہو گئی۔ منگل کی شام لاہور ریلوے اسٹیشن پر بم دھماکے میں دو افراد ہلاک جبکہ پچاس سے زائد زخمی ہوئے ۔ ریلوے پولیس کا اہلکار ادریس اور قلی محمد بوٹا موقع پر دم توڑ گئے ،چوالیس زخمیوں کو قریبی میو اسپتال پہنچایا گیا جن میں 7سالہ بچہ محمود آج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ سات سالہ محمود کو گہرے زخم آئے تھے ،اس کی ہلاکت کے بعد دھماکے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد تین ہو گئی۔ خان پور کا کمسن محمود اپنے گھروالوں کے ساتھ لاہور آیا تھا ،واپسی پر وہ اور اس کے گھر والے دھماکے کی زد میں آ گئے ،اس وقت43زخمی میواسپتال، 7گنگا رام جبکہ 3سروسز اسپتال میں زیرعلاج ہیں جن میں چودہ خواتین اور تین بچے ہیں،،چار زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے ۔
ہزارہ ایکسپریس وے کی تعمیر کے لئے نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے تعمیراتی فرموں سے ٹینڈر طلب کر لئے
ایبٹ آباد:ہزارہ کی عوام کا دیرینہ مطالبہ پوراہزارہ ایکسپریس وے کی تعمیر کے لئے نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے تعمیراتی فرموں سے ٹینڈر طلب کر لیے ہیں منصوبے پر جولائی تک کام شروع ہونے کا قوی امکان ہے منصوبہ ایشین ڈویلپمنٹ بینک ، وفاقی وصوبائی حکومتوں کے تعاون سے دو سال کی مدت میں مکمل ہوگا مذکورہ منصوبے پر تین فیز میں کام تعمیراتی کام ہو گا پہلے فیز میں 20کلو میٹر کا کام برہان سے جھاری کس تک ، دوسرے فیز میں 19کلو میٹر جھاری کس تک سرائے صالح تک اور تیسرے فیز میں 18کلو میٹر سرائے صالح سے حویلیاں تک کام دو سال کی قلیل مدت میں مکمل ہو گا اس سلسلے میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے انٹرنیشنل سطح کی تعمیراتی کمپنیوں سے ٹینڈر طلب کر لیے ہیں جو کہ جون کے دوسرے ہفتے میں کھولے جائیں گے مذکورہ منصوبے کی تکمیل سے ہزارہ کی عوام کا دیرینہ مطالبہ بھی پورا ہو جائے گا اور حسن ابدال تک سفری مشکلات میں نمایاں حد تک کمی آ جائے گی اور شاہراہ ریشم کے متبادل ایکسپریس وے کی وجہ سے ٹریفک کے مسائل میں بھی کمی آ جائے گی ایکسپریس وے کی تعمیر سے قبل 38موضع جات میں سے بیشتر متاثرین کو حکومت معاوضہ بھی ادا کر چکی ہے اور ذرائع کے مطابق وزیر اعظم پاکستان عنقریب اس منصوبے کا افتتاح کرینگے منصوبے کی تکمیل سے روزگار اور سیاحت میں اضافہ ہو گا۔
علی اصغر خان پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی نائب صدرمقرر
ایبٹ آباد:پاکستان تحریک انصاف کے چئرمین عمران خان نے علی اصغر خان کو پارٹی کا مرکزی نائب صدر مقرر کر دیا۔پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل عارف علوی کی جانب سے تقرری کا نوٹیفیکشن جاری۔ تفصیلات کے مطابق پارٹی کے سرگرم رہنما علی اصغر خان کو پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی نائب صدر کی زمہ داریاں سونپ دی گئیں۔ پارٹی کے مرکزی سیکرٹی جنرل عارف علوی نے مرکزی نائب صدر کی زمہ داری ملنے پرعلی اصغر خان کو مبارکباد دی ہے۔ زرائع کے مطابق علی اصغر خان گذشتہ تین روز سے ایبٹ آباد میں تھے اور یوتھ کے تنظیمی اختلافات کے خاتمے کیلئے ملاقاتوں اور میٹنگوں کے طویل سلسلہ میں مصروف رہے انہوں نے پارٹی کے یوتھ ونگ کے مرکزی صدر ابرار الحق کی ایبٹ آباد آمد اور یوتھ کنونشن کے حوالے سے یوتھ ونگ کی جانب سے منعقدہ اجلاس میں بھی شرکت کی۔ زرائع کے مطابق گذشتہ شام انہیں پارٹی کی مرکزی قیادت کی جانب سے شاورت کیلئے اسلام آباد بلایا گیا۔ دریں اثناء پارٹی فیصلے کی اطلاع ملتے ہی پارٹی کارکنوں اور یوتھ کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ایبٹ آباد میں علی اصغر خان کی رہائشگاہ پر جمع ہو گئی جنہوں نے اس فیصلے پر خوشی کاا ظہار کیا اور اسے پارٹی کو منظم و فعال بنانے میں اہم قدم قرار دیا۔جبکہ ہزارہ سمیت ملک بھر سے پارٹی ارکان کی جانب سے مبارکباد کیلئے فون کالز کا تانتا بندھ گیا۔ واضح رہے کہ علی اصغر خان کا شمار سرگرم سیاستدانوں میں ہو تا ہے جو نوجوانوں میں کافی مقبول ہیں۔
صوبہ ہزارہ تحریک کے زیر اہتمام جناح چوک میں احتجاجی کیمپ لگادیاگیا
ایبٹ آباد:یکم مئی کو ہزارہ جام ہڑتال کی کامیابی کیلئے صوبہ ہزارہ تحریک کے زیر اہتمام جناح چوک میں احتجاجی کیمپ کا انعقاد کر دیا گیا کیمپ میں دن بھر لوگوں کی آمدورفت جاری رہی اور ملی نغموں سے ماحول کو خوب
گرما یا گیا آنیوالوں نے کہا کہ صوبہ ہزارہ سے کم کسی چیز پر مفاہمت نہیں کی جائے گی جبکہ اس موقع پر کئی اہم راہنماؤں نے بھی کیمپ کا دورہ کیا جن میں ہزارہ عوامی اتحاد کے چیئرمین ولی محمد خان جدون ہزارہ قومی محا ذ کے چیئرمین قاضی اظہر ایڈووکیٹزونل انچارج ایم کیو ایم سید اقبال حسین شاہ راہنماء پیپلز پارٹی شیرپاؤ ریاض علی شاہ جاوید خان جدون ٗ عامر فرید خان جدون ڈسٹرکٹ انچارج ایم کیو ایم اعجاز قریشی سمیت دیگر نے بھی شرکت کی اور کہا کہ ہم یکم مئی کو ہزارہ جام ہڑتال ضرور کریں گے کیونکہ یہ ہماری عزت کا مسئلہ ہے وزیر اعظم پاکستان سمیت دیگر قومی راہنماؤں نے سرائیکی صوبہ کا اعلان کر کے ہمارے زخموں پر نمک پاشی کی ہے ہم صوبہ ہزارہ تحریک کے شانہ بشانہ ہیں اور لانگ مارچ پر سول نافرمانی کا اعلان ہماری مجبوری ہو گی کیونکہ 64سالوں سے ہمارے حقوق غصب کئے جا رہے ہیں ۔
نااہل حکمرانوں اور سیاستدانوں سے نجات دلانے کیلئے سرگرم عمل ہیں، علی اصغر خان

ایبٹ آباد: تحریک انصاف یوتھ ونگ کا مثالی فیصلہ۔ تمام تنظیمی اختلاف، اندرونی انتشار، گروپ اور دھڑے بندیوں کا خاتمہ، علی اصغر خان کی رہائشگاہ پرمشترکہ پریس کانفرنس میں باہمی شیر و شکر ہو کر تبدیلی کی جدوجہد کے عزم کا اعلان۔تفصیلات کے مطابق پارٹی کے مرکزی رہنما علی اصغر خان کی جانب سے یوتھ ونگ کے ضلعی ارکان کو باہم ملانے کی کوششیں کامیاب ثابت ہوئیں مختلف سطحوں کی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں کے دورا ن بات چیت اور تنظیمی امور پرمذاکرات کے بعد یوتھ نے یکجا و متحد ہونے کا حتمی فیصلہ کر لیا۔ علی اصغر خان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے یوتھ کے رہنماؤں ڈویژنل صدرکاشف خان جدون ، سردار شرافت،شہر یار خان،سید یاسر شاہ،سردار احمد زیب،زاہد خان جدون، عبدالرافع خان ، عظیم تنولی، خالد خان، خرم رحیم، علی اصغر یوسف زئی نے ضلع کی متوازی تنظیمیں ختم کر کے متفقہ تنظیم کا اعلان کر دیا گیا۔ یوتھ کے رہنماؤں نے کہا کہ یوتھ کے نوجوانوں نے پارٹی کی بڑی قیادت کیلئے مثال قائم کر دی ہے اور انہیں بھی نوجوانوں کی پیروی میں اسی طرح کرنا چاہئے تا کہ اپنے اصل مقصد اور منزل کی جانب پیش قدمی کی جاسکے ۔علی اصغر خان نے کہا کہ ہما ری جنگ چور، لٹیرے اور مکارسیاستدانوں سے ہے جنہوں نے اس قوم کے وسائل اور قومی سیاست پر قبضہ کرکے عوام کو غربت اور مسائل کی گرداب میں پھنساکر رکھ دیا ہے ۔ ہم تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے عمران خان کی سچی، کھری اور دیانتدار قیادت میں قوم کو اس لوٹ مار کے نظام اور بدعنوان،خودغرض،نااہل حکمرانوں اور سیاستدانوں سے نجات دلانے کیلئے سرگرم عمل ہیں۔ علی اصغرخان نے مزید کہا کہ نوجوان تبدیلی کی اس جدوجہد کے سرخیل ہیں۔ پوری قوم نوجوان طبقہ سے آس و امید لگائے بیٹھی ہے اور پی ٹی آئی یو تھ ونگ کا ہر نوجوان اس امید کو یقین میں بدلنے کیلئے پر عزم ہے۔
ہر ی پور میں ٹریفک کا المناک حادثہ،7 افراد جاں بحق
بالڈھیر کے مقا م پر ٹا ئی راڈ کھلنے سے ٹرک بے قا بو ہو کر ہری پور سے ایبٹ آباد آنے وا لے ٹیوٹا ہا ئی ایس پر چڑھ دوڑا
جاں بحق ہو نے وا لوں سلیمان ولد راجا محمد،عا بد ولد عزیز الرحمان،تنویر ولد نذیر،با بر ولد یونس،تسلیم ولد سلیم،اشتیاق ولد اصل اور عذرا زوجہ پرویز شامل
ہر ی پور: ہر ی پور کے موضع بالڈھیر میں ٹریفک کے المنا ک حا دثے میں دو خوا تین سمیت 7 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔زخمیوں میں سے کئی افراد کو ایوب میڈیکل کمپلیکس ایبٹ آباد منتقل کر دیا گیا۔واقعات کے مطا بق ٹرک ایبٹ آباد سے ہر یپور کی جا نب جا رہا تھا کہ بالڈھیر (نکہ پاہ)کے مقا م پر ٹا ئی راڈ کھلنے سے بے قا بو ہو کر ہری پور سے ایبٹ آباد آنے وا لے ٹیوٹا ہا ئی ایس پر چڑھ دوڑا جس کے نتیجے میں دو خواتین سمیت 7 افراد جان سے ہا تھ دھو بیٹھے۔جاں بحق ہو نے وا لوں سلیمان ولد راجا محمد،عا بد ولد عزیز الرحمان،تنویر ولد نذیر،با بر ولد یونس،تسلیم ولد سلیم،اشتیاق ولد اصل اور عذرا زوجہ پرویز شامل ہیں۔حادثے میں زخمی ہو نے وا لوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے فی الفور ڈی ایچ کیو ہر ی پور پہنچا دیا گیا جبکہ تشویشناک حالت کا شکار افرادکمپلیکس ایبٹ آباد ریفر کر دیے گئے۔عینی شا ہدین کے مطا بق حادثہ اتنا شدید تھا کہ لو گوں کو دھما کے کا شبہ ہوا اور اطلا ع ملتے ہی پو لیس نے موقع پر پہنچ کر مختلف شوا ہد کی روشنی میں رپورٹ درج کر لی۔المناک حادثے کی خبر ہزا رہ بھر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور اپنے پیا روں کی خبر لینے کے لیے ہر طرف فون کا لوں تانتا بندھ گیا۔
ہزارہ میں جیلوں کی صورت حال بہتر کرنے کے لیے مربوط پلان مرتب
ہریپور کی سنٹرل جیل سمیت تمام ڈسٹرکٹ جیلوں کے حکام ہر ماہ خطرناک قیدیوں کی تفصیلات سے پولیس کو آگاہ کریں گے
نادرا کی مدد سے تصاویر اور فنگر پرنٹس کا فیصلہ کیا جائے گا،جیلوں میں جدید الارم سسٹم اور واک تھرو گیٹ نصب کیے جائیں گے
جدید الارم سسٹم اور واک تھرو گیٹ نصب کیے جائیں گے ، موبائل فون روکنے کے لیے جامرز کی مدد لی جائے گی، کمشنر ہزارہ

ایبٹ آباد :ہزارہ ڈویژن کی جیلوں میں قید دوسرے صوبوں سے تعلق رکھنے والے دہشت گردی اور سنگین جرائم کے خطرناک قیدیوں کو ان کے اپنے صوبوں کی جیلوں میں بھیجنے کیلئے صوبائی حکومت سے سفارش کی جائے گی ہری پور کی سنٹرل جیل سمیت تمام ڈسٹرکٹ جیلوں کے حکام ہر ماہ خطرناک قیدیوں کی تفصیلات سے ضلعی پولیس کو آگاہ کریں گے جبکہ جیلوں میں کسی بھی وقت ایسے قیدیوں کی آمد کے بارے میں بھی متعلقہ جیل سپرنٹنڈنٹ فوری طور پر اپنے ضلع کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کو مطلع کریں گے نادرا کی مدد سے تمام جیلوں کے قیدیوں کی تصاویر اور فنگر پرنٹس کا ریکارڈ بھی رکھا جائے گا۔ جیلوں میں جدید الارم سسٹم اور واک تھرو گیٹ نصب کئے جائیں گے ۔ موبائل فون کا استعمال روکنے کیلئے جامرز کے انتظام کے علاوہ فون کے استعمال میں قیدیوں کو مدد دینے والے عملے کے خلاف بھی سخت کاروائی کی جائے گی۔ جیلوں کو لاحق اندرونی اور بیرونی خطرناک سے نمٹنے کیلئے عملے کو جدیداسلحہ فراہم کر کے اس کے استعمال کی تربیت دی جائے گی جبکہ تربیت اور عملے کی کمی کو فوری طور پر پوری کرنے کیلئے اس کام کے ماہر سابق ملازمین کی خدمات حاصل کی جائیں گی تمام جیلوں میں ہائی پروفائل قیدیوں پر کڑی نظر رکھی جائے گی فول پروف سیکورٹی کیلئے ہر جیل میں ریزرفورس کے قیام‘ جدید سیکورٹی آلات اور اسلحہ کا حصول ‘ عملے کی تربیت ‘ جیل انتظامیہ ‘ ضلعی انتظامیہ اور ضلعی پولیس کے درمیان مسلسل رابطہ سمیت تمام ناگزیر اقدامات ہر صورت میں یقینی بنائے جائیں گے ان اقدامات کا فیصلہ آج یہاں کمشنر ہاؤس میں کمشنر ہزارہ محمد خالد خان عمرزئی اور ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس ڈاکٹر نعیم خان کی صدارت میں جیلوں کی سیکورٹی سے متعلق معاملات کا جائزہ لینے کے لئے منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا ہزارہ کے تمام اضلاع کے ڈسٹرکٹ کوآرڈنیشن افسروں‘ ڈسٹرکٹ پولیس افسروں‘ جیلوں کے سپرنٹنڈنٹس اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی اجلاس کے دوران بنوں جیل کے واقعہ کے تناظر میں جیلوں کو لاحق ہونے والے خطرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور جیلوں کی سیکورٹی کو ہر لحاظ سے یقینی بنانے کیلئے اہم اور فوری اقدامات کا فیصلہ کیا گیا اجلاس کے دوران زلزلے سے متاثرہ ایبٹ آباد جیل کی تعمیر نو کا ذمہ دار ’’ایرا‘‘کو قرار دیتے ہوئے اس پر تشویش کااظہار کیا گیا اور تمام جیلوں میں سیکورٹی انتظامات کی موجودہ صورتحال اور مطلوبہ افرادی قوت سمیت سیکورٹی کی ضروریات کی مکمل تفصیلات آج ہی کمشنر ہزارہ کو پیش کریں جو ان ضروریات کو فوری اور ترجیحی بنیادوں پر پورا کرنے کیلئے صوبائی حکومت کو مؤثر طور پر ارسال کریں گے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر ہزارہ محمد خالد خان عمرزئی نے جیلوں کے افسران کو ہدایت کی کہ وہ قیدیوں اور عملے کے تحفظ کیلئے اپنی ضروریات کھل کر بیان کریں اور قیدیوں کے ساتھ عملے کی ملی بھگت سے پیدا ہونے والے سیکورٹی خطرات کی روک تھام کیلئے سخت اقدامات کریں انہوں نے جیل خانہ جات کے حکام سے کہا کہ وہ دہشت گردی کے واقعات میں ملوث خطرناک قیدیوں اور دوسرے اہم جرائم کے قیدیوں کی درجہ بندی کر کے دہشت گردوں پر کڑی نظررکھیں‘ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے خطرناک مجرموں کو محفوظ جیلوں میں منتقل کرنے کے اقدامات بھی کئے جائیں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی آئی جی پولیس ڈاکٹر نعیم خان نے کہا کہ کسی بھی جیل پر کسی بیرونی حملے سے نمٹنے کیلئے متعلقہ ضلعی پولیس کو بھی ہمہ وقت تیار رہنا چاہیے انہوں نے جیل سٹاف کی شوٹنگ میں تربیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں محکمہ داخلہ سے جدید اسلحہ کی فراہمی کیلئے کہا جائے گا انہوں نے کہا کہ ہریپور جیل کی سنٹرل جیل سب سے زیادہ حساس ہے اس لئے اس جیل پر سیکورٹی کا بوجھ کم کرنے کیلئے یہاں پر قید دوسرے صوبوں کے خطرناک مجرموں کو اپنے صوبوں کی جیلوں میں بھیجا جانا چاہیے انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال میں سیکورٹی کی معمولی سے معمولی کمزوری کو بھی ہرگز نظرانداز نہ کیا جائے۔
صوبہ ہزارہ کے قیام کے لیے یکم مئی کو پہیہ جام ہڑتال کی جائے گی
صوبہ ہزارہ کے بغیر سرائیکی صوبے کا بل اسمبلی میں لایا گیا تو ہزارہ بھر میں غیر معینہ مدت کے لئے پہیہ جام ہڑتال کریں گے.آل پارٹیز کانفرنس
ایبٹ آباد: صوبہ ہزارہ کے قیام کے لئے یکم مئی کو ہزارہ بھر میں پہیہ جام ہڑتال جبکہ چھ ستمبر کو کوہستان سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کا اعلان۔ صوبہ ہزارہ کے بغیر سرائیکی صوبے کا بل اسمبلی میں لایا گیا تو ہزارہ بھر میں غیر معینہ مدت کے لئے پہیہ جام ہڑتال کریں گے۔ اس بات کا اعلان تحریک صوبہ ہزارہ کے زیر اہتمام آل پارٹیز کانفرنس کے بعد مشترکہ اعلامیہ میں کیا گیا۔ آل پارٹیز کانفرنس میں پاکستان مسلم لیگ(ق)کے مظہر علی قاسم، جے یوآئی (ف)کے سینیٹر سیّد ہدایت اللہ شاہ، جماعت اسلامی کے سجاد قمر، ہزارہ عوامی اتحادکے ولی محمد خان جدون، ہزارہ قومی محاذکے قاضی اظہر ایڈوکیٹ، پی پی پی پی کے قاضی عدنان بشیر ، پیپلزپارٹی شیرپاؤبھٹو گروپ کے سیّد ریاض علی شاہ، ایم کیو ایم کے اقبال حسین شاہ، عامر جدون، جے یو آئی (س)کے مولانا عتیق الرحمن ہاشمی و قاری زرین شاکر، سنی اتحاد کونسل کے پیر سیّد شاہ محمد کمال، پاکستان تحریک انصاف کے سردار محمد یعقوب وزرگل خان، تحریک حقوق ہزارہ کے عبدالحئی گوہر، پاکستان عوامی تحریک کے غلام سرور، آل ایمپلائز کوآرڈی نیشن کونسل کے اظہر علی جدون و قاضی تنویر، یونائیٹڈ ٹریڈرز فیڈریشن کے سرفراز سالار وکاشف قریشی، آٹو موبائل یونین کے حاجی سعید گل، تاجران ہزارہ کے علاوہ سابق صوبائی وزیر شہزادہ گستاسپ خان، طارق خان سواتی، خانزادہ خان بٹگرام، انجینئر احسان اللہ، ملک نورکوہستان، ایم پی اے وجیہہ الزمان خان، ایم پی اے ساجدہ تبسم،ذوالقرنین جدون، جاوید خان جدون، ابرار تنولی عرف اقبال،فارق خان جدون، سیٹھ عصمت ایڈوکیٹ، ملک خورشید ایڈوکیٹ، جان محمد قریشی، علی خان جدون، قاضی محمد صادق، نصیر خان جدون، مفتی زین العابدین، شوکت حیات و دیگر نے شرکت کی۔ جبکہ آل پارٹیز کانفرنس میں ہزارہ نیوز پیپر سوسائٹی کے سرپرست اعلیٰ پیر عالم زیب شاہ اور صدر احمد نواز خان جدون نے بحیثیت مبصر شرکت کی۔ پاکستان مسلم لیگ(ن) اور عوامی نیشنل پارٹی کے کسی آدمی نے اے پی سی میں شرکت نہیں کی۔ آل پارٹیز کانفرنس کے بعد مشترکہ اعلامیہ سے خطاب کرتے ہوئے صوبہ ہزارہ تحریک کے چیئرمین سردار محمد یوسف اور دیگر نے اعلان کیا کہ اگر قومی اسمبلی میں صوبہ ہزارہ کے بغیر سرائیکی صوبے کے قیام کا بل پیش کیا گیا تو ہم اس کی بھرپو رمزاحمت کریں گے اور ہزارہ میں غیر معینہ مدت کے لئے شٹرڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی جائے گی۔ سردار محمد یوسف نے صوبہ ہزارہ تحریک کے زیر اہتمام احتجاج کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ یکم مئی کو صوبہ ہزارہ کے قیام کے لئے پورے ہزارہ ڈویژن میں شٹرڈاؤن پہیہ جام ہڑتال کی جائے گی۔ جبکہ رمضان المبارک اور عیدالفطر کے بعد چھ ستمبر کو کوہستان سے لیکر اسلام آباد تک لانگ مارچ کیا جائے گا۔ تئیس اپریل کو ایبٹ آباد ، اٹھائیس کو ہری پور، مانسہرہ، بٹگرام اور کوہستان میں احتجاجی کیمپ لگائے جائیں گے۔ جبکہ یکم مئی کو آئندہ پہیہ جام ہڑتال کی تاریخ کا اعلان کیا جائیگا۔ سردار محمد یوسف نے بتایا کہ لانگ مارچ کے بعد بھی صوبہ ہزارہ کا قیام عمل میں نہیں لایا گیاتو پھر ہم ہزارہ بھر میں سول نافرمانی کا اعلان کریں گے۔ بجٹ سیشن کے دوران اسلام آباد میں صوبہ ہزارہ تحریک کا احتجاجی کیمپ لگایا جائیگا۔ جلسے جلوس رابطہ عوامی مہم کے علاوہ عوامی نمائندوں ، تاجر، وکلاء، طلباء ، ٹرانسپورٹروں سے رابطہ مہم تیز کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ سردار یوسف نے صحافیوں کے مختلف سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بابا حیدر زمان ، پاکستان مسلم لیگ(ن) اور عوامی نیشنل پارٹی کے لئے ہمارے دروازے کھلے ہیں۔ بابا حیدر زمان صرف ایک سیاسی جماعت چلا رہے ہیں۔ جبکہ صوبہ ہزارہ تحریک کے اتحاد میں تمام سیاسی جماعتیں شامل ہیں۔ اس موقع پر متفقہ طور پر حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ایم کیو ایم کی جانب سے قومی اسمبلی میں صوبہ ہزارہ کے قیام کے لئے پیش کیا جانیوالا بل بحث کے لئے اسمبلی فلور پر لایا جائے اور تمام جماعتیں اس کی حمایت کریں۔
آل امپلائز کوآرڈینیشن کونسل کا مہنگائی اور لوڈشیڈنگ کیخلاف احتجاجی مظاہرہ
مہنگائی کے تناسب سے ملازمین کو ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ احتجاجی تحریک کا دائرہ کاروسیع بھی کر سکتے ہیں ، ارزم خان و دیگر کا خطاب

ایبٹ آباد: آل امپلائز کوآرڈینیشن کونسل کے زیر اہتمام ملک بھر کی طرح ایبٹ آباد میں بھی بڑھتی ہوئی مہنگائی اور لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرہ جناح باغ سے شروع ہوا اور کینٹ بازار سے ہوتا ہوا پریس کلب ایبٹ آباد میں اختتام پزیر ہوا ۔ مظاہری کی قیادت ارزم خان جدون، بنارس خان، جمیل تنولی اوردیگر نے کی۔ جس میں مختلف سرکاری محکموں سے تعلق رکھنے والے ملازمین نے کثیر تعدادمیں شرکت کی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بینرز رکھے تھے جس میں مہنگائی اور لوڈشیڈنگ کے خلاف نعرے درج تھے۔ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے آل امپلائز کوآرڈینیشن کونسل کے مرکزی قائدین نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ ارزم خان جدون اور دیگر نے اس موقع پر حکومت کو خبردار کیا کہ اگر مہنگائی کے تناسب سے ملازمین کو ریلیف فراہم نہ کیا گیا اور ان کے مطالبات نہ مانے گئے تو احتجاجی تحریک کا دائرہ وسیع کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا جائے گا۔
Update Avalanche Clearance at Gayari Sector Siachen
Swiss and German team after completing their assigned task of assisting search and rescue mission have gone back to their counties. The report submitted by Swiss and German teams validated earlier indentified sites by Pakistan Army. Meanwhile Norway and US Teams are at Gayari to assist the ongoing rescue operations.
Search and rescue Operation at Gayari continues round the clock at its full pace. The rise in temperature has increased the chances of slides, however necessary safety precautions are being taken to ward off danger. The tunnel at site 1 has been widened slightly; however, the work on the tunnel is hampered due to presence of toxic gases in it. The work on other sites indentified by experts is in progress at full pace using all available resources.
AYUB MEDICAL COLLEGE
Recovery from Senior doctors ordered.
Audit department pointed out Misuse of fund amounting to ten million rupees
ABBOTTABAD: Chief Executive Ayub Medical Institution (AMI) being the chairman of Departmental Accounts Committee (DAC) has endorsed the audit objections raised by Audit Department of Khyber Paktunkhwa and order for the recovery of basic Science allowance from four senior doctors of Ayub Medical college Abbottabad.
The provincial audit department has unearthed misuse of public funds at the Ayub Medical College (AMC) in the name of qualification allowance, basic science allowance and special allowance during the last one decade and pointed out misuse of fund amounting to more than ten million rupees and raised 30 objections.
Acting Chief Executive AMI Dr. Zia-ur-rehman in letter No. PS_CE (AMI) 2012/478-80 dated 9th March 2012 on subject “ the recovery of Basic science Allowance on the decision of DAC held on 17th- 19th October 2011” stated that the advance para no.501 has been upheld by the DAC and asked the concerned officer for the adjustment of recovery in time. The recovery letter addressed to Professor Dr. Abdul Wahid, Vice Principal / Head of Dentistry department, Professor Dr. Irum Abbass, Dentistery department, Assistant Professor Dr. Sham Sher Ali Khan, Anesthesia department and Assistant Professor Dr. Jamil Ahmed of Anesthesia department.
The DAC meeting was chaired by Professor Dr, Zia-ur-rehman, chief executive AMI and was attended by Dr Abdul Rasheed Principal Ayub Medical college, Sardar M. Pervez Khan Director Finance, Taj Muhammad Deputy Secretary Finance, Umara Khan Deputy Director Audit, Said –ul-amin Audit Officer and Muhammad Sheraz Accounts officer. According to the minutes of the DAC meeting ( available with The News) has upheld number of advance paras for recovery including Unauthorised withdrawal of Basic science allowance @ Rs. 57000/- per month, Overpayment of 13,116,624/- due to payment of housing subsidy on excessive rate, unauthorized and illegal drawl of housing subsidy amounting to Rs. 6,279,504/- , undue favour due to non depositing of rent of tuck shop amounting to Rs. 172,800/-, etc. Ironically advance para No. 519 were settled by DAC which stated the overpayment of Rs.600,000/- due to drawn on unauthorized qualification allowance despite the fact Accounts record of the AMC for year 2008-09 revealed that in spite of the clear cut instructions of the board of governors, the doctor concerned still managed to draw the qualification allowance and a sum of Rs600,000 was overpaid.
The basic science allowance and special allowance which is admissible to the medical officers at the rate of Rs57,000 per month, who hold the post of lecturer in medical college and are teaching basic science subjects in anatomy, physiology and forensic medicines. The audit report stated that Dr Iram being the professor of dentistry is not eligible to receive the allowance but she has been drawing the same, which is unauthorized. “A sum of Rs1700,000 has been withdrawn from June 1, 2007 till April 30, 2010,” the audit report said.
Professor of Dentistry Dr Abdul Wahid is another beneficiary who, according to audit objection, has also received Rs1.7 million till April 30, 2010 despite the fact that he is also not authorised for the same. Dr Shamsher Ali and Dr Jamil Ahmed, professor and associate professor of anaesthesia, respectively, have also been getting the basic science allowance for the last four years. An amount of Rs3.060 million was drawn up to April 2010, the audit report claimed.
صو بہ ہزا رہ تحریک نے تاج حیدر کا ریسرچ ورک مسترد کر دیا،آل پا رٹیز کا نفرنس طلب
ایبٹ آباد: صو بہ ہز ارہ تحریک نے پیپلز پارٹی کے تاج حیدر کے ریسرچ ورک کو مسترد کر تے ہو ئے اس حوا لے سے آل پا رٹیز کا نفرنس بلا کر آئندہ کا لا ئحہ عمل طے کر نے کا اعلان کر دیا ہے۔اتوار کو سا بق وفا قی وزیر امان اللہ خان جدو ن کی رہا ئش گا ہ پر پر ہجوم پریس کا نفرنس سے خطاب کر تے ہو ئے صوبہ ہزارہ تحریک کے چیئر مین سردار محمد یوسف ، سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی سردار یوسف ، سابق صوبائی وزیر شہزادہ گستاسپ، ایم پی اے وجیہہ الزمان ، زر گل خان، ہزاہ قومی محاذقاضی اظہر ایڈوکیٹ، ولی محمد خان، پرنس فضل حق کوہستانی ،جے یو آئی کے ہدایت اللہ شاہ اور پیپلز پارٹی کے سید ریاض حسین شاہ سمیت دیگر نے تاج حیدر کی جانب سے ریسرچ ورک میں ہزارہ صوبے کے مطالبے کو لسانیت پر مبنی قرار دینے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور اسے صوبہ ہزارہ کے قیام کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے مترادف قرار دیا۔

انھوں نے کہا کہ تاج حیدر کا ریسرچ ورک منظر عام پر لا کر پیپلزپار ٹی ہزارے والوں کو انتقام کا نشانہ بنانا چاہتی ہے جبکہ سیاسی مفادات کے حصول کے لیے سرائیکی صوبے کی آواز ہر سطح پر اُٹھائی جا رہی ہے ۔ مقرریں کا کہنا تھا کہ ہزارہ لسانی نام ہے نہ کسی قوم کی نمائندگی کرتا ہے بلکہ یہ مختلف قبائل پر آباد ایک خطے کا نام ہے جس میں پشتو، ہندکو، گوجری اور کوہستانی زبانیں بولی جاتی ہیں ۔سردار یوسف اور دیگر نے اس موقع پر حکمرانوں کو خبر دار کیا کہ اگر انھوں نے صوبہ ہزارہ کو نظر انداز کر کے صرف سرائیکی صوبے کا قیام عمل میں لایا تو ہزارے وال نہ صرف سول نافرمانی کی طرف جائیں گے بلکہ جیل بھرو تحریک سمیت لانگ مارچ سے بھی دریغ نہیں کیا جائے گا۔
ایبٹ آباد، پرائمری طلبہ کیلئے جونیئرز جوائے کانفرنس شاندار انعقاد کے بعد اختتام پذیر
ماڈرن ایج گرلز کالج میں منعقد ہونے والی کانفرنس میں ہزارہ سمیت خیبر پختونخوا اور پنجاب کے مختلف تعلیمی اداروں کے طلبہ کی شرکت
باہمی مقابلوں کی اجتماعی پوزیشن میں جناح بیسک سکول مانسہرہ پہلے ، آرمی برن ہال دوسرے ، یسریٰ پبلک سکول خانپور تیسرے نمبر پر رہا

ایبٹ آباد:پرا ئمری سطح کے طلبہ کی تخلیقی صلاحتیں اجاگر کر نے کے لیے دوسری قومی ’’جو نےئرز جوا ئے ( Juniors’ Joy ) ‘‘کانفرنس شا ندا ر انعقاد کے بعدایبٹ آباد میں اختتام پذیر ہو گئی۔ماڈرن ایج گرلز کا لج کے مختار مسعود آڈریم میں منعقد ہو نے وا لی تعلیمی کا نفرنس میں ہزا رہ ڈویژن سمیت صو بہ خیبر پختونخوا اور پنجاب کے مختلف سکو لوں سے تعلق رکھنے وا لے طلبہ کے علا وہ ما ہرین تعلیم،پرنسپلزاوراساتذہ نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔کانفرنس میں طلبا و طا لبات کے ما بین نظم،جوک ٹیلنگ(Joke Telling )،پلے ڈاؤ (Play Dough )کارڈ میکنگ(Card Making )،واٹر کلرنگ(Water colouring )،کولاج میکنگ(Collage Making )،فوک ڈا نس(Folk Dance ) اور فوک سا نگ) Folk Song ) کے مقا بلو ں کا انعقاد کیا گیا۔حتمی نتائج کے تحت مجمو عی پو زیشنوں میں جناح بیسک سکول ما نسہرہ پہلے،آرمی برن ہال کالج دوسرے جبکہ یسری پبلک سکول خا نپور تیسرے نمبر پر رہا۔نظم مقا بلوں میں ججز کے فرا ئض احمد حسین مجا ہد اور راشد خان،جوک ٹیلنگ میں عا مر سہیل اور رخسا نہ جا وید،کارڈ میکنگ میں عفت احمد اور میاں ارشد،واٹر کلرنگ میں ملک جہا نزیب اور فضل ستار،پلے ڈاؤ میں بشری شہا ب اور کوکب ندیم ،کو لاج میں بشری شہا ب اور اور فضل ستار،فوک ڈا نس میں آصف مصطفی اور مس فر خندہ جبکہ فوک سا نگ میں ججز کے فرا ئض ندیم سلطان اور محمد عون نے سر انجام دیے۔اس موقع پر جو نےئرز جوا ئے کا نفرنس سے بطور مہمان خصوصی خطاب کر تے ہو ئے ممتاز ما ہر تعلیم ثمینہ خا لد نے کہا کہ سن بلوغت سے قبل بچوں میں سیکھنے کی صلاحیت بدرجہ اتم پا ئی جا تی ہے اور عمر کے اس حصے میں انہیں جس قسم کی تر بیت دی جا تی ہے وہی ان کا اوڑھنا بچھونا بن جا تی ہے۔انہوں نے اس ضمن میں سا ئنسی نقطہ نگاہ سے کا نفرنس کے شرکاء کو کم سن طلبہ کے تر بیتی عمل کے مختلف پہلو ؤں سے آگا ہ کیا اورکہا کہ گراس روٹ لیول سے بچوں کو تخلیقی اور تحقیقی سر گرمیوں کی جا نب راغب کر نے سے حقیقی معنوں میں ایک تر قی یا فتہ اور با شعور معاشرے کی تشکیل یقینی بنا ئی جا سکتی ہے۔اگر طلبہ ابتدا ء سے ہی قا ئدا نہ صلاحیتوں کے حا مل ہوں گے تو مستقبل میں وہ قوم کی قیا دت زیا دہ بہتر انداز میں کر سکیں گے۔ثمینہ خا لد نے جو نےئرز جوا ئے کا نفرنس کے عمدہ انعقاد پر ماہر تعلیم واحد سراج اور ماڈرن ایج کی پو ری انتظا میہ کو خراج تحسین پیش کیا اور امید ظا ہر کی کہ اس قسم کی سر گر میوں کا تسلسل آئندہ بھی بر قرار رہے گا۔دریں اثناء واحد سراج نے اپنے خطاب میں کہا کہ بدقسمتی سے مو جو دہ تعلیمی نظام میں محض امتحان پاس کر نے پر ہی تمام تر توا نا ئیں صرف کی جا تی ہیں مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہما ری نو جوان نسل زندگی کے مختلف شعبوں میں واقعی قیادت کی اہل ہے۔انہوں نے کہا کہ ہما رے آبا ء و اجداد نے پاکستان محض اس لیے حاصل نہیں کیا تھا کہ ہم محدود دا ئرے کے اندر تر قی کریں بلکہ اس عظیم مملکت کے قیام کا مقصد درحقیقت خطے میں قا ئدا نہ کردار ادا کر نے کے لیے تھا۔آج ملک میں لا ء اینڈ آرڈر کے مسا ئل ،توا نا ئی کے بحران اور خراب معا شی صورت حال کا بنیا دی سبب یہی ہے کہ ہم نے تعلیم کے میدا ن میں طلبہ کو تخلیقی اور تحقیقی سر گر میوں کی جا نب راغب کر نے کی ضرورت محسوس نہیں کی ۔اگر ہم معیا ر کے بر عکس تعلیم کو فروغ دیں گے تو مسا ئل بڑھیں گے اور عالمی سطح پر ہما ری سا کھ متاثر ہو گی۔
واحد سرا ج نے مزید کہا کہ ہمیں اپنے اندر اس یقین کو پختہ کر نا ہو گا کہ معیا ری تعلیم کی بدو لت ہی ملک میں حقیقی تبدیلی آسکتی ہے۔اسی امر کومدنظر رکھتے ہو ئے ایبٹ آباد میں ’’جو نےئرز جوا ئے ‘‘ کے نا م سے ایک تحریک شروع کی گئی ہے اور ہما ری تو جہ اس وقت کسی مخصوص تعلیمی ادا رے پر مر کوز نہیں بلکہ دیگر تمام سکو لوں کے بچے بھی ہما رے بچے ہیں۔ایسے میں ہمیں طلبہ کو بہترین تخلیق کار اور اچھے انسان بننے کی ترغیب دینا ہو گی تاکہ تعلیمی نظام کو جدید اور پائیدا ر خطوط پر استوار کیا جا سکے۔انہوں نے جو نےئرز جوا ئے میں شریک تمام طلبہ،ما ہرین تعلیم اور اساتذہ کا شکریہ ادا کیا اور انہیں یقین دلا یا کہ اس پلیٹ فارم سے تعلیم کے فروغ کا مشن جا ری و سا ری رکھا جا ئے گا۔جونےئرز جو ائے میں مجمو عی طور پر 30 سکو لوں نے حصہ لیاجن میں آرمی برن ہا ل کالج(جو نےئر و گرلز سیکشن)،اےئر فا ؤنڈیشن سکول سسٹم ایبٹ آباد،الارقم اکیڈمی آف ایکسی لینس حویلیاں،ماڈرن ایج پبلک سکول و کالج (جو نےئر و گرلز سیکشن)،بیکن ہا ؤس سکول سسٹم ایبٹ آباد،برا ئٹ فیوچر اکیڈمی،دار ارقم حو یلیاں،ڈا کٹر اے کیو خان سکول سسٹم مانسہرہ،گندھار پبلک سکول و کالج واہ کینٹ،گیٹ وے انٹر نیشنل پبلک سکول و کالج ایبٹ آباد،ہزا رہ کنوینٹ سکول مانسہرہ،انٹر نیشنل اسلامک یو نیورسٹی،اقراء اکیڈمی ایبٹ آباد،جمال پبلک سکول مانسہرہ،جناح بیسک سکول و کالج مانسہرہ،کوہ نور اکیڈمی مانسہرہ،پریسیڈنٹ پبلک سکول و کالج ہری پور،مانسہرہ پبلک سکول،ریڈ روزز اسلامک اکیڈمی ایبٹ آباد،روٹس سکول سسٹم ایبٹ آباد،سکا ئی انٹر نیشنل سکول و کالج مانسہرہ،دی سٹی سکول،دی ویرسٹی سکول ایبٹ آباد،یو نیورسل سٹوڈنٹس اکیڈمی بفہ خورد اور یسری ماڈل ہا ئی سکول خا نپور شامل تھے۔خصوصی ایونٹ کے موقع پر طلبہ کی تفریح کے لیے گھڑ سواری،فیس پینٹنگ،ایکروبیٹس اور فوڈ سٹا لز کا بھی عمدہ انتظام کیا گیا تھا جسے شر کا ء میں بڑی حد تک سرا ہا گیا۔
علی اصغر خان کی مولانا شفیق الرحمان نے اہم ملاقات، ہزارہ تحریک پر تبادلہ خیال
یومِ شہداء کے بعد ہزارہ میں مایوسی اور بے چینی کی فضاء جدوجہد کیلئے نقصان دہ ہے، مولانا شفیق الرحمان
ہزارہ صوبہ کی جدوجہد میں اتفاق رائے کیلئے مولانا جیسی محترم شخصیات کردار ادا کریں،سربراہ تحریک حقوق ہزارہ
ایبٹ آباد:تحریک حقوق ہزارہ کے سربراہ اور پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما علی اصغر خان نے ہزارہ کے بزرگ عالم دین اور جے یو آئی کے رہنما مولانا شفیق الرحمان نے ان کی رہائیشگاہ پر ملاقات کی۔ اس موقع پر عبدالحئی گوہر، مولانا انیس الرحمان بھی موجود تھے۔ ملاقات میں علی اصغر خان نے ہزارہ صوبہ کی تحریک کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہزارہ وال اپنے حقوق اور شناخت کی جدوجہد پر متفق ہیں تاہم پا رٹی ، گروہی اورسیاسی مفادات نے اس تحریک کو پیچھے دھکیل دیا ہے جس کیلئے ضروری ہے کہ مولانا صاحب جیسی ہزارہ کی محترم شخصیات پیش رفت کریں اور ہزارہ کی قیادت کو باہم قریب لانے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ کم از کم محدود ایجنڈا پر ہی سہی لیکن اتفاق قائم ہو سکے اور 12اپریل جیسے اہم مواقع پر مشترکہ پروگرام اور اجتماعات کئے جا سکیں۔ اس موقع پر مولانا شفیق الر حمان نے کہا کہ چند روز قبل یومِ شہدائے ہزارہ کے موقع پر چار پروگراموں کے انعقاد کے بعد سے ہزارہ میں مایوسی اور بے چینی کی فضاء نے ہر ہزارہ وال کو مضطرب کیا ہے یہ صورتحال اس جدوجہد کیلئے نقصان دہ ہے ۔ قومی سطح پر جو سیاسی منظر نامہ ہے اس کے پیش نظرہزارہ کی قیادت میں اتفاق و اتحاد کی ضرورت ہے۔ملاقات کے دوران اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ سیاسی جماعتوں کو ہزارہ صوبہ اپنے منشور میں شامل کرنا چاہیئے ۔
صوبہ ہزارہ کیلئے سول نافرمانی سمیت تمام آپشن زیر غور ہیں ،سردار یوسف
تحریک کی سپریم کونسل کی باہم مشاورت سے جلد ہی تحریک کا آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا ، اجتماع سے خطاب

ایبٹ آباد : صوبہ ہزارہ تحریک کے سربراہ سردار یوسف نے کہا ہے کہ صوبہ ہزارہ بننے تک ان کی احتجاجی تحریک جاری رہے گی اور اس کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا اور تحریک کی سپریم کونسل کی باہم مشاورت سے جلد ہی تحریک کا آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا جس کے تحت سول نافرمانی ، اسمبلیوں کے سامنے بھوک ہڑتالی کیمپ منعقد کرنے سمیت جیل بھرو تحریک ، لانگ مارچ سمیت تمام آپشن زیر غور ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے شہداء ہزارہ (فوارہ چوک ) ایبٹ آباد میں سانحہ بارہ اپریل کے شہداء کی دوسری برسی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا اس جلسے کی صدارت جماعت اہل سنت ہزارہ کے امیر صاحب زادہ شاہ محمد کمال کاظمی نے کی اور اس سے ان کے علاوہ سابق وفاقی وزیر امان اللہ خان جدون ، صوبائی اسمبلی میں سابق اپوزیشن لیڈر شہزادہ گستاسپ خان ، سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی سردار یعقوب ، اراکین صوبائی اسمبلی الحاج قلندر خان لودھی ،و جیہہ الزمان خان ، سابق صوبائی وزراء طارق خان سواتی ، یوسف ایوب خان ، سابق اراکین صوبائی اسمبلی زرگل خان ، مظہر قاسم ، جمعیت علماء اسلام مانسہرہ کے امیر اور سابق سینیٹر سید ہدایت شاہ ، جماعت اسلامی کے سابق ضلعی امیر عبدالرزاق عباسی سمیت علی خان جدون ، مولانا عبدالرحیم شاہ اور متعدد دیگر مقررین نے خطاب کیا صوبہ ہزارہ تحریک کے سربراہ سردار یوسف کا کہنا تھا کہ صوبہ ہزارہ کے حصول کے لیے سب کو متحد ہونا ہوگا اور اسی سے منزل کا حصول ممکن ہوگا یہ تحریک جو عوام کی قربانیوں سے شروع ہوئی اس وقت اسمبلیوں اور ایوانوں تک پہنچ چکی ہے اور اس کے لیے ہزارہ کے نوجوانوں نے جو خون دیا ہے وہ ضرور رنگ لا کر رہے گا اور ہم شہداء کے مقدس خون کو کبھی رائیگاں نہیں جانے دیں گے انہوں نے عمران خان ، مولانا فضل الرحمان ، الطاف حسین ، جماعت اسلامی سمیت دیگر ان تمام جماعتوں اور قائدین کا شکریہ ادا کیا کہ جنہوں نے صوبہ ہزارہ کی جانب تحریک کی مختلف فورموں پر حمایت اور تائید کی اور ہزارہ کے عوام کی آواز کے ساتھ اپنی آواز بلند کی جب کہ ان سمیت متعدد دیگر مقررین نے تحریک صوبہ ہزارہ کے قائد بابا سردار حیدر زمان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور مختلف قرار دادوں کے ذریعے سانحہ بارہ اپریل کے شہداء کی فوری ایف آئی آر درج کر کے ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرنے سمیت سانحہ سکردو ، ہری پور بس حادثے کے لواحقین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا گیا ۔
2nd Death Anniversary of Shuda-e-Hazara observed
ABBOTTABAD: Tehrik-e-Suba Hazara and other political parties in two different public meetings have observed the second death anniversary of seven people who sacrificed their lives two years back during protest over the renaming of province as Khyber Paktunkhwa while demanding the government to registered FIR against those police officials who were involved in the firing.
Special Quran khawani were held at District bar lawn and Tehrik-e-Haqooq office for the innocent people who were killed on 12th April 2010 in police firing. Two separate meetings were held in the city, one was organized by Tehrik-e-Suba Hazara led by Sardar Hyder Zaman Khan at Jinnah chowk while the other protest gathering was arranged in fowara chowk by Hazara suba tehrik led by Sardar Muhammad yousaf. The city remained calm and quite as local administration provided full protection to traders as well as transporters and business activities remain in full swing and half hearted attempt to shut down the shops by one group was foiled by commissioner Hazara who later also offered Fateh at the protest meetings of Baba Haider Zaman .
Interestingly the relatives and family members of the 12th April victims who had formed their own group named as “Anjuman Ittehad Shuhadaa ” organized a memorial function at press club where beside the Dua, speakers showed their anger and resentment on both main groups who have been raising voice for the Soob Hazara province . They further said that the names of 12th April Shuhada were exploited by both groups and except the photo session, both fails to even register FIR despite the fact that two years have passed.
Chief of TSH ,Sardar Haider Zaman while addressing the gathering once again asked the President Asif Ali Sardar and Prime minister Yousaf Raza Gilani not to force the people of Hazara who will be having left no choice but to start the disobedience movement if Hazara province is not created. Criticizing the rival group he said that they have joined the hands of government and failed to shutter down in entire Hazara. He claimed that we had opposed the shutter down as we do not want to put in trouble the people of Hazara especially traders who are already suffering due to price hike. Others who addressed the gathering include Sardar Fida Hussain, Engineer Sultan Kha, Sardar Waqar Nabi, Major (R ) Jamil Kiyani, Moulana Qazi Gohar Rehman, Moulana Abdul Waheed, Sardar Gohar Zaman, Haji Shahid, Ahmed Salar and Sijjad Qureshi.
Sardar Muhammad Yousaf and other speakers in their separate gathering have also repeated their stand and said their struggle will be materialized one day and they will fight at every front and had organized protest rallies in front of parliament. Sardar Muhammad Yousaf was flanked by the former deputy speaker national assembly Sardar Yuqoub, former federal minister Amanullah Khan Jadoon, sitting MPA from PMNL(Q) Qalandar Khan Lohdi, Wajeeh Uz Zaman, Mazhar Qasim, former provincial ministers Shezada Gustasab Khan, Tariq Khan Swati, Yousaf Ayub Khan , Zar Gul Khan Ex-MPA , JI Abdur Razzaq Abbasi ,Naseer Khan Jadoon and Ali Khan Jadoon .
Ali Asghar Khan who recently joined Tehrik-e-Insaf and has also formed his own faction as Tehrik-e-Haqooq-e-Hazara has organized “Dua” at his residence and showed sympathies with the families of the 12th April riots and had vowed to continue their struggle for the creation of Hazara province. He demanded release of funds for Hazara as present government has diverted funds of Hazara to other areas of the province.
Update Avalanche Clearance at Gayari Sector Siachen
Despite weather hazards, rescue operation at Gayari Sector continues at five priority points identified with the help of SPD team employed alongwith plant equipment, Army Search and Rescue Teams.

A 450 meters long access track has been developed on the avalanche to access the priority points. Work on another access track has also been started to widen search perimeter.
Mainly Plant equipment is employed at two points. The work is in progress at rapid speed on both points.
At the work on other three points mainly being done with the help of infantry troops who resort to manual digging with some assistance from plant equipment where required.
A Dozer has been employed to restore the water channel, which has been blocked due to avalanche. So far two exists are available with 20 and 15 cusecs discharge. Efforts are in hand to enhance same with the help of plant equipment.
Nine Dead, 10 injured in Haripur Accident
ABBOTTABAD: At least nine passengers lost their lives including two women and ten injured in a deadly road accident near Shah Maqsood area in Haripur on early Wednesday 11th April 2012.
According to details, a passenger bus and a wagon met a head-on collision due to slippery roads and over-speeding, caused by heavy rainfall, leaving seven passengers dead and another ten injured. Two among dead are women, rescuers said.
Police, rescuers and medics have managed to reach the accident site and have almost completed rescue operation.
Dead and injured have been shifted to hospital, rescuers and medics said, adding that some injured, critical in condition, need intensive care.
شہدائے ہزارہ کی برسی پر تاجر تنظیموں نے مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کر دیا
شہداء ہزارہ چوک میں برسی کی تقریب اور جلسہ میں بھرپور شرکت کرینگے،12 اپریل شہدا ء کے نام کرینگے، تاجر

ایبٹ آباد:شہداء ہزارہ کی برسی پر یونائیٹڈ ٹریڈرز فیڈریشن منڈیا سپلائی تاجر اتحاد تاجران روڈ جھگیاں آٹو موبائیل یونین تاجران لاری اڈہ فوارہ چوک لنک روڈ تاجراتحاد سمیت دیگر تاجر تنظیموں نے صوبہ ہزارہ تحریک کی اپیل پر مکمل شیٹرڈاؤن ہڑتال کا اعلان کر دیا شہداء ہزارہ کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے ہر طرح کی قربانی کا اعلان شہداء ہزارہ چوک میں برسی کی تقریب اور جلسہ میں بھرپور شرکت کرینگے ۔ صوبہ ہزارہ کیلئے پہلے بھی قربانی دی ہے آئندہ بھی دینگے ۔ شہداء ہزارہ اور غازیوں کو جس طرح دہشتگردی کا نشانہ بنایا گیا اُس کو کبھی نہیں بھول سکتے 12 اپریل کو اپنا کاروبار بند کر کے شہداء کے نام کرینگے ۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ شہداء کے ساتھ یکجہتی سے ان کی روح کو سکون ملے گا یہ بات صوبہ ہزارہ تحریک کے رہنماؤں سردار یوسف ، امان اللہ خان جدون کی اپیل پر تاجر برداری نے ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے کہا جن میں سرفراز سالار ، برا خان جدون ، محبت خان جدون ، فاروق لالہ ، زبیر خان ملک سلیم گشتاشپ خان فیصل خان نسیم خان کاشف علی سلیم خان جدون ، بشیر احمد عباس اور دیگر تاجر نمائندوں مشترکہ طور پر کی انہوں نے کہا ہمیں اپنے اختلافات کو بالا طاق رکھتے ہوئے اپنے عظیم فرزندوں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے شٹرڈاؤن ہڑتال اور برسی تقریبات میں شرکت کرنا چاہیے ۔
کمشنر ہزارہ کا ہریپور کی 5 یونین کونسلوں کو ضلع تناول میں شامل نہ کرنیکا اعلان
وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی نئے ضلع کے قیام کے سلسلے میں ہری پور کے عوام کی خواہشات کا احترام کرتے ہیں ، خالد خان عمر زئی
ایبٹ آباد: کمشنر ہزارہ ڈویژن خالد خان عمر زئی نے ضلع ہری پور کی پانچ یونین کونسلوں ،جن میں بیڑ ، کلنجر ، بیٹ گلی ، امازئی اور لدڑ منگ شامل ہیں ، کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے ان یونین کونسلوں کی موجودہ حیثیت بحال رکھنے اور انہیں مجوزہ ضلع تناول میں شامل نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تا ہم انہوں نے کہا کہ ضلع مانسہرہ کی حدود کے ساتھ واقع یونین کونسل لدڑ منگ کی اس مختصر آبادی کو اس کی خواہش کے مطابق نئے مجوزہ ضلع میں شمولیت کا حق بھی دیا جائے گا۔یہ اعلان انہوں نے منگل کے روز اپنے دفتر میں رکن خیبر پختونخوا اسمبلی اور سابق وزیر اعلی صاحبزادہ پیرصابر شاہ کی قیادت میں ہری پور کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ وفد میں ہری پور کی یونین کونسل بیڑ ، کلنجر ،بیٹ گلی،ناڑہ امازئی اور لدڑ منگ کے نمائندہ عمائدین شامل تھے۔ملاقات میں ڈی سی او ہری پور سید محسن علی شاہ بھی موجود تھے۔ کمشنر ہزارہ نے وفد سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلی خیبر پختونخوا امیر حیدر خان ہوتی نئے ضلع کے قیام کے سلسلے میں ہری پور کے عوام کی خواہشات کا احترام کرتے ہیں اور انہیں ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں۔مزید برآں وزیر اعلی خیبر پختونخوا پیر صابر شاہ کا بھی بے حد احترام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی جب ضلع تناول کے قیام کا معاملہ اٹھا تھا تو پیر صابر شاہ نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا جن پر صوبائی حکومت نے سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے ان تحفظات کو دور کرنے کی یقین دھانی کرائی تھی۔ کمشنر ہزارہ نے کہا کہ مذکورہ یونین کونسلیں ہری پور کے ساتھ ہی رہیں گی ۔اس لئے ان یونین کونسلوں کے عوام کو اس بارے میں کوئی تشویش باقی نہیں رہنی چائیے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ مجوزہ ضلع کے قیام کے لئے ڈویژنل انتظامیہ کی جانب سے صوبائی حکومت کو جو رپورٹ ارسال کی جائے گی اس میں مذکورہ یونین کونسلوں کے عوام کی خواہشات اور مفادات کا پورا خیال رکھا جائے گا۔ جبکہ اس بارے میں ڈی سی او ہری پور اور ڈی آر او کو پہلے بھی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔کمشنر نے وفد کے ارکان سے کہا کہ وہ سرکاری محکموں سے متعلق اپنے کسی بھی مسئلہ کے حل کے لئے براہ راست ان سے رابطہ کر سکتے ہیں۔اس سے قبل پیر صابر شاہ نے کمشنر ہزارہ کو ضلع تناول کے قیام کے سلسلے میں مذکورہ یونین کونسلوں کے عوام کی تشویش اور بے چینی سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ان یونین کونسلوں کے لوگ کسی صورت مجوزہ ضلع میں شامل ہونا نہیں چاہتے کیونکہ اس سے قبل انہوں نے بڑی مشکل سے ایبٹ آباد اور مانسہرہ سے الگ ہو کر ہری پور میں شمولیت اختیار کی تھی۔ پیر صابر شاہ نے کہا کہ ہم ضلع تناول کے قیام کے مخالف نہیں ہیں۔ جن لوگوں کو ضلع کے قیام سے فائدہ پہنچ سکتا ہے انہیں ان کاحق ضرور دیا جائے لیکن ہم سے ہمارا حق نہ چھینا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پرامن رہ کر اپنی آواز حکومت تک پہنچا رہے ہیں اوراس امر پر وزیر اعلی امیر حیدر خان ہوتی کی قدر کرتے ہیں کہ وہ عوام کے جذبات اورخواہشات کا احترام کرتے ہیں،انہیں ساتھ لے کر چلتے ہیں اور فیصلہ اپنی مرضی کے بجائے عوام کی مرضی سے کرتے ہیں۔ بعد ازاں پیر صابر شاہ نے کمشنر ہزارہ کے اعلان پر ان کا اور وزیر اعلی کا شکریہ ادا کیا۔
تحریک انصاف اقتدار میں آکر پہلے دن ہی امریکی جنگ کا خاتمہ کریگی، عمران خان
ملک میں انقلاب اس وقت تک نہیں آسکتا جب سیاستدان با ہر کے بنکوں میں پڑا پیسہ پاکستان وا پس نہیں لا تے،ایبٹ آباد میں بڑے جلسہ عام سے خطاب
ایبٹ آباد:تحریک انصاف کے سر برا ہ عمران خان نے کہا ہے کہ ان کی جما عت اقتدار میں آکرپہلے دن ہی دہشت گر دی کے خلاف لڑی جا نے و الی ا مریکی جنگ ختم کر ے گی۔تحریک انصاف اپنے ہی لو گوں پر بم بر سا نے کے بجا ئے قبا ئلیوں سے بات کرے گی کیو نکہ اس جنگ سے قوم تبا ہ ہو رہی ہے اور دشمن فا ئدہ اٹھا رہے ہیں۔ملک میں انقلاب اس وقت تک نہیں آسکتا جب سیاستدان با ہر کے بنکوں میں پڑا پیسہ پاکستان وا پس نہیں لا تے۔سو نامی کو اب دنیا کی کو ئی طا قت رو ک نہیں سکتی۔وہ وقت دور نہیں جب ملک کو امریکی غلا می سے نجات دلا کر ایک نئے پاکستان کی بنیاد رکھی جا ئے گی۔آج زردا ری کی سا ری کرپشن کی قیمت عوام مہنگائی کی صورت میں ادا کر رہے ہیں اور حکمران امیر جبکہ قوم غریب ہو گئی ہے۔ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے اتوار کو ڈگری کا لج نمبر 1 کے گرا ؤنڈ میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کر تے ہو ئے کیا۔اس موقع پر تحریک انصاف کے وا ئس چےئر مین شا ہ محمود قریشی ،مخدوم جا وید ہاشمی اور ابرا ر الحق سمیت سا بق وفا قی وزیر اعظم خان سوا تی ،تحریک انصاف خیبر پختونخوا کے صدر اسد قیصر، ہزا رہ وڈویژن کے صدآصف زبیر شیخ،ڈاکٹر اظہر جدون،علی اصغر خان ،سردار شیربہادر،یوسف ایوب،را جہ عا مر زمان ،فیصل زمان،سا بق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی سردار محمد یعقوب،نثار صفدر خان اور خورشید اعظم کے علا وہ ہزا رہ بھر سے پارٹی کے قا ئدین،کارکنوں اور عوام نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ روزا نہ ہما رے فوجی جوان اور بے گنا ہ شہری امریکا کی جنگ میں شہید ہو رہے ہیں اور آج تک کسی کو یہ بھی معلو م نہیں ہو سکا کہ یہ جنگ کیوں لڑی جا رہی ہے اور اس میں جیت کس کی ہو گی۔زرداری،گیلانی،اسفند یار ولی اور نواز شریف اس جنگ کا خاتمہ نہیں کر سکتے اور نہ ہی مو لا نا فضل الرحما ن جو زردا ری کے سا تھ مل کر اسلام کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ان کاکہنا تھا کہ ہما ری پارٹی میں یہ نہیں ہو گا کہ زرادا ری کے بعد بلا ول تیار ہو جا ئے۔انگریزی میں تقریر کر نے وا لے بلا ول کو یہ بھی معلوم نہیں کہ پاکستان کے عوام کس قدر اذیت نا ک صورت حال سے دو چار ہیں۔ن لیگ میں بھی اگر کسی نے جا نا ہے تو اسے اپنے نام کے سا تھ شریف لگا نا پڑے گا اور چو دھری نثار سا ری زندگی ملازم ہی رہیں گے۔تحریک انصاف واحد جما عت ہے جس کی قیا دت کا چنا ؤ نو جوا ن کر یں گے اور انہیں خود بھی لیڈر بننے کا موقع فراہم کیا جا ئے گا۔عمران خان نے مزید کہا کہ انگریز کے آنے سے پہلے ہمارا ہر گا ؤں آزاد تھا مگر اس نے آتے ہی ہمیں غلام بنا دیا اورآج اس کے جا نے کے بعد بھی ہما ری حیثیت غلا می سے زیا دہ کچھ نہیں ہے۔اس کی بنیا دی وجہ ہمارا یہ نظام ہے جو ہمیں غلا می کی طرف لے کر جا رہا ہے ۔ہم حکومت میں آکر گا ؤں کے لو گوں کو با اختیار بنا ئیں گے اور ایک ایسا نظام تشکیل دیں گے جس میں گا ؤں کے لوگ ہی ہی سکول اور تھا نے چلا ئیں گے اور جو تھا نے دار یا استاد کام نہیں کر ے گا اسے خود نکا ل با ہر کریں گے۔تحریک انصاف کے سربرا ہ نے کہا کہ ہما رے دور حکومت میں عوام کو پٹوا ریوں،قبضہ ما فیا ،تھا نیدا روں اور تحصیلدا روں کی نا انصا فیوں سے نجات دلا ئی جا ئے گی اور بلد یا تی نظام کو ترجیح دیتے ہو ئے نچلی سطح سے ترقیا تی عمل پروان چڑھا یا جا ئے گا۔انہوں نے کہا کہ 10 سا ل پہلے ترکی کے جو حا لات تھے ،وہی آج پاکستان کے ہیں تا ہم ترکی نے اپنی محنت کے بل بو تے پر دنیا میں نما یاں مقام حاصل کر لیا ہے جس کی وجہ وہاں ایما ندار قیا دت کا ہو نا ہے۔پاکستان میں تعلیم جیسے اہم شعبے کے لیے صرف 1.8 فیصد بجٹ مختص کیا جا تا ہے جبکہ تر کی میں 24 فیصد بجٹ ہے۔آج پاکستا ن کا ہر شہری 70 ہزار رو پے کا مقروض ہو گیا ہے حا لا نکہ پاکستان میں دنیا کے تیسرے نمبر کے کو ئلے کے ڈخا ئر ہیں جبکہ یہاں تانبے،گیس ،سو نے اور سنگ مر مر کے ذخا ئر کی بھی کمی نہیں۔صرف ایک ایما ندار قیا دت ہی ان وسائل کا بطریق احسن استعمال یقینی بنا سکتی ہے اور یہ قیا دت تحریک انصاف ہی لا ئے گی۔عمران خان نے ملک میں بڑھتی ہو ئی دہشت گر دی اور لا قا نو نیت پر تشویش کا اظہار کر تے ہو ئے کہا کہ پاکستان کے اندر امن و امان کی مخدوش صورت حال کے باعث یہاں سر ما یہ کا ری نہیں ہو رہی حتی کی بیرون مقیم پاکستانی سر ما یہ کا ربھی یہاں آنے سے کترا رہے ہیں۔جب تک کرپشن ختم نہیں ہو گی اور قوم کا لوٹا ہوا پیسہ با ہر کے ممالک سے وا پس نہیں لا یا جا تا،مسائل جوں کے توں رہیں گے اور یہاں غربت ہی رہے گی۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف آنے وا لے انتخا بات میں کرپٹ سیا ستدا نوں کا اکیلے مقا بلہ کرے گی اور انقلاب کی راہ ہموار کرے گی۔عمران خان نے ہزا رہ کے عوام کو یقین بلا یا کہ چھوٹے صوبے مضبوط اور ترقی یا فتہ پاکستا ن کے لیے ضروری ہیں اور ان کی جماعت چھوٹوں صو بوں کے قیام کو اولین ترجیح دے گی۔جلسے سے خطاب کر تے ہو ئے جا وید ہاشمی نے کہا کہ وہ پہلے ملک سے کرپشن کے خا تمے کے لیے اصغر خان کے سا تھ تھے اور اب ان کا لیڈر عمران خان ہے۔انشا ء اللہ انہی کی قیادت میں پاکستان سے چوروں ،ڈا کو ؤں اور لٹیروں کو بھگا ئیں گے ۔جا وید ہاشمی کاکہنا تھا کہ وہ زردا ری کے سا تھ سا تھ ن نواز شریف سے بھی یہی کہا کر تے تھے کہ لوٹا ہوا مال وا پس لائیں اور عوام خرچ کریں مگر ان کی بات نہیں ما نی گئی جس پر وہ تحریک انصاف میں آگئے۔انہوں نے اس موقع پر صو بہ ہزا رہ کی بھر پور حما یت کی اور کہا کہ صو بہ ہزا رہ یہاں کے لو گوں کا حق ہے جو کہ ضرور بننا چا ہیے۔شاہ محمودقریشی نے اپنے خطاب میں کہا کہ جب قوم جا گ جا ئے تو لٹیرے اور غاصب دم دبا کر بھاگ جا تے ہیں۔عوام ایسی جماعت چا ہتی ہے جو امریکا کے جوتے پالش نہ کرے۔ کیوں کہ یہ قوم اب مالشوں سے تنگ آچکی ہے۔ شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ ہم پاکستان کے وقار کا کسی صورت سودا نہیں کرنے دیں گے ۔ آج پاکستان فوجی جوان برفانی تودے تلے شہید ہو چکے ہیں اور صدر زرداری دہلی کے دورے پر ہیں ۔ انہوں نے صوبہ ہزارہ کے قیام کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اس سے یہاں کی دیرینہ محرومیوں کا ازالہ ہوگا ۔ جلسے سے تحریک انصاف کے مقامی رہنماؤں اعظم سواتی ، آصف زبیر شیخ ، سردار یعقوب ، علی اصغر خان ، ڈاکٹر اظہر اور دیگر نے بھی خطاب کیا ۔
ALL IS SET FOR PTI PUBLIC MEETING IN ABBOTTABAD
ABBOTTABAD: All is set for the ist ever public meeting of Pakistan Tehrik-e-Insaf in Abbottabad on sunday (today) in Government Post Graduate college, where hundred of PTI activists were involved in the arrangements including leveling the ground.

The local administration finally allowed the PTI to hold Public meeting in the college ground after the PTI threat to hold & block the Karakuram Highway at fowara chowk. Entire city was decorated with banners and hoardings with big portrates of Imran Khan and membership campaigns were seen in each and every corner of the city.
The college ground was levelled by the PTI activists which was dumped with huge waste material of newly constructed Girls college . Separate arrangements were made for female, media and guests from outstations. Two big containers were displayed in front of the federal hostel for stage and entire ground was decorated with the banners and panaflex of local leaders displaying their photographs. Security arrangements will be monitored by PTI youth wing.
Divisional President Asif Zubair Sheikh claimed that it would be historic public meeting as they have organised 10 different camps to motivate people of Hazara. Dr. Azhar Jadoon, local PTI leader told that Imran Khan;s public meeting would change the political destiny of Hazara as people of every nook & corner of all the six districts of Hazara division would participate in the public meeting. Member Central Executive Committee of PTI Ali Asghar Khan also hopeful of big ever gathering in Abbottabad and expected to show their strength .
It may be recalled here that number of Political pundents of Abbottabad have recently joined PTI which include Former Deputy Speaker National assembly Sardar Muhammad Yaqoob, Former Minister Sardar Muhammad Idrees, Dr. Azhar Jadoon and many others. Interestingly most of the PML (Q) leaders excepty Sardar Muhammad Yaqoob who have announced to join PTI have not seems active and have reportedly reconciled with PML (Q) after some disputes with PTI leadership.

































Abbottabad Time



