103

ایبٹ آباد: ناران آپریشن سے متعلق کمشنر ہزارہ اور ڈی آئی جی پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں

کمشنر ہزارہ ڈویژن ریاض خان محسود نے کہا ہے کہ ناران میں تجاوزات کے خلاف آپریشن حکومتی ہدایات کے مطابق مکمل کیا گیا ہے،وزیر اعظم ،وزیر اعلی اور چیف جسٹس کی ہدایات کے مطابق آپریشن کر کے 6 ہزارکیبن،6ہوٹلز،اور 22غیر قانونی عمارتوں کو قوانین کی خلاف ورزی پر گرایا اور تقریبا 4ارب مالیت کی 8کنال سرکاری اراضی کو واہگزار کرایا ہے ،آپریشن کے دوران ضلعی انتظامیہ ،پولیس پر پتھراؤ ،فائرنگ کرنے اور سرکاری مشینری کی توڑ پھوڑ کرنے پر 50شرپسند کو گرفتار کیا گیا،آپریشن کے دوران مقامی مزاحمت کے باوجود انتظامیہ کی جانب سے کسی فرد واحد کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ، 290ہوٹلز کی نکاسی دریائے کنہار میں ہے ،جس کو ختم کرنے کے 15روز کی ڈیڈ لائن ہے ،ان خیالات کااظہار انہوں نے یہاں ہفتہ کے روز کمشنر آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا اس موقع پر ڈی آئی جی ہزارہ میر ویس نیاز ،ڈپٹی کمشنر مانسہرہ ڈاکٹر قاسم ،ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر مانسہرہ آصف بہادر بھی موجود تھے،کمشنر ہزارہ ڈویژن کا کہنا تھا حکومت نے سیاحت اور ماحولیات کو ترجیحات میں رکھا ہوا ہے،وزیر اعظم کے دورہ ناران سے قبل پشاور ہائیکورٹ نے تجاوزات کو ختم کرنے کے لئے فوکل پرسن بنایا ،آپریشن سے قبل تمام قانونی تقاضے پورے کئے گئے ہیں ،انہوں نے کہا کہ گزشتہ صوبائی حکومت کے 1بلین ٹریز سونامی منصوبہ کو دنیا نے سراہا ہے موجودہ حکومت کے 10بلین پراجیکٹ کے مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں،ہزارہ ڈویژن میں ماحولیات کی بہتری کے لئے جامع پروگرام مرتب کیا ہے،ناران آپریشن بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے،انہوں نے کہا کہ ناران ملک بھر میں ایک منفرد سیاحتی مقام ہے جو بے ہنگم غیر قانونی تجاوزات سے مچھر کالونی بنا ہوا تھا 6ہزار غیر قانونی کیبن پر کچی بستی غیر اخلاقی سرگرمیوں کا مرکز بنے ہوئی تھی،ہر کسی نے اپنی مرضی کی تعمیرات کر رکھی تھیں جن کو کوئی پوچھنے والا نہیں تھا کسی نے تین اور کسی نے دس منزلہ عمارت بنا رکھی تھی،کمشنر ہزارہ ریاض خان محسود کا کہنا تھا جھیل سیف الملوک پر موٹر بوٹ چلائی جا رہی تھیں ،وہاں سے کیبن 7 سو میٹر پیچھے منتقل کر رہے ہیں تاکہ جھیل کی قدرتی خوبصورتی متاثر نہ ہو،انہوں نے کہا کہ 290ہوٹلز کی نکاسی دریائے کنہار میں کی گئی ہے ان کو میڈیا کے توسط سے 15 روز کی ڈیڈ لائن دیتے ہیں اگر عمل نہ ہوا تو قانونی کاروائی ہوگی،کمشنر ہزارہ کا کہنا تھا ریونیو ریکارڈ کے مطابق ناران کاغان جلکھڈ تک تجاوازت کو ختم کیا ہے اور ریور پروٹیکشن ایکٹ خلاف ورزی پر بھی کاروائی ہوگی،اس کے لئے ریور رینجر میں مقامی بھرتی کی گئی ہے جن کو موٹر سائیکل فراہم کئے ہیں جو دریا کے کنارے غیر قانونی تعمیر پر رپورٹ دیں گے،ناران میں ٹراؤٹ مچھلی کے شکار اور رافٹنگ پر بھی پابندی لگائی ہے جس کے لئے ضابطہ بنا رہے ہیں، ماحولیات پربرے اثرات مرتب کرنے والے پولی تھین بیگز ختم کرنے کے لئے 10لاکھ بائیو گریڈ ایبل بیگ تقسیم کئے جا رہے ہیں، قدرتی ماحول کو برقرار رکھنے کے لئے مستقبل کی پیش بندی کی ہے ،انہوں نے کہا کہ ہزارہ کے پرامن باشعور لوگ ہیں ،99فیصد قانون پسند اور ایک فیصد ماحول خراب کرتے ہیں، ضلعی انتظامیہ ،پولیس کو داد دیتا ہوں کہ جنہوں نے بہادری سے قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے آپریشن مکمل کیا انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر بروقت آپریشن نہ کرتے تو آئندہ حالات ذیادہ تشویشناک ہوتے،انہوں نے ایبٹ آباد میں کرش پلانٹ بند کرنے کی پالیسی بنائی ہےٹھنڈیانی روڈ پر بھی مائنگ اور کرش پلانٹ پر پابندی لگا رہے ہیں اور اس کو ہری پور مانسہرہ منتقل کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں