182

کینٹ بورڈ کا سب سے بڑا مسئلہ کیا؟ انتخابات میں 54 امیدوار

ایبٹ آباد: کینٹ بورڈ نے 2021 ء کے انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کی حتمی فہرست جاری کردی ہے۔ ضلع کے کل 10 وارڈز کے لیے 53 امیدواروں نے کاغذات جمع کرا رکھے ہیں۔ فہرست کے مطابق تحریک انصاف اور ن لیگ نے آٹھ، آٹھ وارڈز سے امیدوار نامزد کیے ہیں جبکہ جماعت اسلامی 6 اور پیپلز پارٹی صرف 3 حلقوں سے انتخاب لڑ رہی ہے۔ علاوہ ازیں پاکستان عوامی تحریک 4 وارڈز سے انتخابات میں قسمت آزمائی کررہی ہے۔ مولانا خادم رضوی(مرحوم) کی تحریک لبیک نے بھی 3 وارڈز سے امیدوار سامنے لائے ہیں جبکہ مجموعی طور پر21 آزاد امیداوار انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ وارڈ نمبر 7 میں تحریک انصاف اور ن لیگ سمیت دیگر کسی بھی سیاسی یا مذہبی جماعت کی جانب سے امیدوار نامزد نہ ہونے سے آزاد امیدواروں کے لیے میدان کھلا رہ گیا ہے۔اس وقت وارڈ نمبر3 میں انتخابات کے حوالے سے بھرپور گہماگہمی ہے جس میں سب سے زیادہ14 امیدوار میدان میں ہیں۔ وارڈ نمبر7 اور9 میں صرف دو،دو امیدوارآزاد حیثیت سے انتخابی عمل میں شریک ہیں۔ کینٹ بورڈ کی جاری کردہ فہرست کے مطابق وارڈ نمبر1 سے ناصر سلیمان عباسی(تحریک انصاف)، سردار محمد جاوید(مسلم لیگ ن)،گلفرازاحمد(جماعت اسلامی)،وجاہت علی(پاکستان عوامی تحریک)اور محمد آصف(تحریک لبیک)،وارڈنمبر2 سے تیمور خالد(تحریک انصاف)، واجد خان(آزاد) اورسلطان محمد(آزاد)، وارڈ نمبر 3 سے شہزاد کامران خان(تحریک انصاف)، ذوالفقار علی(مسلم لیگ ن)، عدیل احمد(جماعت اسلامی)، زین علی اسد (پیپلزپارٹی)، محمد اویس(پاکستان عوامی تحریک)،ثاقب شاہ(تحریک لبیک)، خاور خان(آزاد)، محسن شہزاد(آزاد)، محمد شعیب(آزاد)، سردار واحد علی(آزاد)، یاسر جاوید (آزاد) اور ذوالفقار احمد(آزاد)،وارڈنمبر4 سے بیدار بخت (مسلم لیگ ن)، عبد السلام(جماعت اسلامی)، محمد سعید(پاکستان عوامی تحریک)، انورنگزیب(تحریک لبیک)،عظیم خان عباسی(آزاد)، ماجد خان (آزاد)، نزاکت خان(آزاد) اور شمعریز خان(آزاد)،وارڈ نمبر 5 سے فہیم گل اعوان(تحریک انصاف)، عمیر اکرم(مسلم لیگ ن)، سلیم اختر(جماعت اسلامی)، فواد علی جدون(پیپلزپارٹی)اور حسام حفیظ(آزاد)، وارڈ نمبر6 سے احتشام الحق قریشی(تحریک انصاف)، اعجاز گل(مسلم لیگ ن)، محمد معید گل خان(جماعت اسلامی)، خرم شہزاد(آزاد)، سید وقاص شاہ گیلانی(آزاد)اور عثمان یو نس(آزاد)، وارڈ نمبر7 سے دلاور خان(آزاد) اور واصف افتخار(آزاد)، وارڈ نمبر8 سے دانیال جدون(تحریک انصاف)، ارشد محمود(مسلم لیگ ن)، محمود سلطان(پیپلز پارٹی) اور کامران اشرف(آزاد)، وارڈ نمبر9 سے محمد ہارون(تحریک انصاف) اور سجاد اختر(مسلم لیگ ن) جبکہ وارڈ نمبر10 سے اعجاز خان جدون(تحریک انصاف)،نبیل اشرف تنولی(مسلم لیگ ن)، افضال احمد عباسی(جماعت اسلامی)، آصف محمود(پاکستان عوامی تحریک) اور محمد علی اعوان (آزاد) انتخابی امیدوار ہیں۔

امیدواروں کے منشور کا ارتکاز کن مسائل پر ہے؟
کینٹ بورڈ انتخابات میں اکثریتی امیدواروں نے قبرستان کے قیام اور نکاسی آب کے انتظام کو اولین ترجیح کے طور پر رکھا ہے۔ حالیہ مون سون کی بارشوں کے بعد کینٹ کے علاقوں میں سیلابی پانی سے وسیع پیمانے پر تباہ کاریاں ہوئیں جس کے نتیجے میں عوام نے براہ راست کینٹ بورڈ جکام پر تنقید کی۔ شہر میں یہ بحث اب بھی تازہ ہے۔ انتخابی امیدواروں نے اس امر کااحساس کرتے ہوئے اپنے منشور میں نکاسی آب کے مسئلے کے مستقل حل کو بنیادی نکتے کے طور پر شامل کیا ہے تاہم یہ سوا ل اپنی جگہ برقرار ہے کہ ان کے پاس اس حوالے سے حکمت عملی ہے؟ کیونکہ شہر بھر میں اس وقت بڑے پیمانے پر تجاوزات قائم ہیں جنہیں مسمار نہ کرنے کی ایک وجہ بااثر افراد کی کارِ سرکار میں مداخلت بھی ہے۔ علاوہ ازیں کھیل کے میدان، ڈسپنسری اور کالج کے قیام کو بھی انتخابی امیدواروں کے ہاں کینٹ ایریا کی اہم ضروریات کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

قبرستان کا مسئلہ
کینٹ ایریا میں قبرستان کی عدم موجودگی اہم ترین مسئلہ ہے۔ تقریباََ تمام امیدواروں نے اس مسئلے کے حل کے حوالے سے اپنے اپنے طور پر اعلانات کیے ہیں۔ ایبٹ آباد میں پی ایم اے روڈ کے قریب کینٹ بورڈ کے قبرستان میں مزید قبروں کی گنجائش نہیں رہی جس کے باعث شہریوں کو میتتیں دفنانے کے لیے دوردراز علاقوں کا رخ کرنا پڑرہا ہے۔اکثر قبروں کے لیے جگہ بھی خریدنا پڑتی ہے۔ بعض علاقوں میں شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت قبرستان کے لیے جگہ خریدنے کی کوشش کی مگر زمین مہنگی ہونے کے باعث یہ کوششیں کارگر ثابت نہیں ہوسکیں۔ عوام کے مطابق کینٹ ایریا میں قبرستان کے لیے وسیع اراضی درکار ہے جس کے لیے منتخب اراکین کو سنجیدہ کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔

نکاسی آب اور عوام کے تحفظات
حالیہ سیلابی تباہ کاریوں کے بعد کنٹونمنٹ بورڈ حکام شدید تنقید کی زد میں ہیں۔ احتجاجی مظاہروں میں سر عام کہا جاتا رہا ہے کہ سابقہ دور میں غیر قانونی نقشے منظور کیے گئے جس کے نتیجے میں شہر بھر میں نالوں پر پختہ تجاوزات قائم کی گئی ہیں۔ ان میں گھر بھی شامل ہیں اورمتعددپلوں کے ساتھ ساتھ دکانوں اور پلازوں کی تعمیر بھی اسی زمرے میں آتی ہے۔ شہر کے سنجیدہ حلقوں کے مطابق بعض رہائشی علاقوں میں تجاوزات کے خلاف عدم کارروائی کی ایک بڑی وجہ بااثر افراد کی مداخلت ہے۔ کینٹ بورڈ انتخابات میں کامیاب ہونے والے امیدواروں کے لیے اس طرز کی تجاوزات کا خاتمہ کرانا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ چونکہ رواں برس ایبٹ آباد میں تاریخی بارشیں ہوئی ہیں اور اتنا ہی زیادہ شہریوں کا نقصان ہوا ہے تو نکاسی آب کا مسئلہ اکثریتی لوگوں کے پیش نظر اہم ہے اور اسی کی بنیاد پر آمدہ انتخابات میں حق رائے دہی کا استعمال بھی کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں