199

معاشرے میں عدم برداشت کے سدباب کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا : آرپی او ہزارہ

ریجنل پولیس آفیسر قاضی جمیل الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان ہم سب کا ہے،یہاں رنگ و نسل کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں۔ملک مستحکم ہوگا تو ہم سب خوشحال ہوں گے۔نوجوانوں میں عدم برداشت کے سدباب کے لیے معاشرے کے ہرطبقے کو اختلافات پس پشت ڈال کر کام کرنا ہوگا کیونکہ پاکستان کا استحکام ہی ہم سب کے استحکام کی ضمانت ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز ماڈرن ایج کالج کے سیپلنگز کیمپس میں بین المذاہب ہم آہنگی کی تقریب سے بطورِ مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب میں ماڈرن ایج کے پرنسپل واحد سراج، معاون پرنسپل سمیرا واحداور سابق اقلیتی رکن ضلع کونسل ذاکر پال ایڈووکیٹ سمیت مختلف مذاہب کی نمائندہ شخصیات موجود تھیں۔ قبل ازیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ماڈرن ایج کے پرنسپل واحد سراج نے کہا کہ مذاہب کے درمیان مشترکہ اقدار کو فروغ دینے سے پاکستان کی ترقی و استحکام کے لیے مل کر کام کیا جاسکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ نادیدہ قوتیں پاکستان کی مختلف برداریوں کے درمیان چھوٹے چھوٹے اختلافات کوبڑھاوا دے کر مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہیں لیکن پاکستانی قوم یک جہتی کا مظاہرہ کرکے ان کی سازشیں ناکام بنائے گی۔ دریں اثنا مہمان خصوصی قاضی جمیل الرحمان نے اپنے خطاب میں کہا کہ نبی کریمؐ کی ساری زندگی برداشت اور باہمی احترام کے جذبے پہ مبنی ہے جس کا انہوں نے عملی اظہار کرکے انسانیت کے لیے مثال قائم کی۔ قاضی جمیل الرحمان نے اس امر کی نشان دہی کرتے ہوئے کہا کہ میثاق مدینہ اور اس جیسے دیگر معاہدے اس بات کا ثبوت ہیں کہ اسلام امن کا مذہب ہے جو رواداری پر یقین رکھتا ہے۔ ہر پاکستانی اگر اسی جذبے سے کام کرے تو ملک مزید ترقی کرے گا۔آرپی او ہزارہ نے کہا کہ پاکستان بالخصوص خیبر پختونخوا نے گذشہ ایک دہائی کے دوران مشکل حالات کا سامنا کیا مگر قوم اب خوشحالی کی جانب بڑھ رہی ہے۔ پاکستان میں دیرپا امن کے قیام کے لیے تمام مذاہب، مسالک اور عقائد کے لوگ صرف پاکستان کی خاطریک جہتی کو ترجیح دینا ہوگی،صرف اسی صورت میں ملک میں خوشحالی لائی جاسکتی ہے۔ تقریب سے اقلیتی برداری کے رکن ذاکر پال ایڈووکیٹ اور دیگر نے بھی خطاب کیا جبکہ اختتام پر مہمانوں میں سوینیر تقسیم کیے گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں