197

12 اپریل کو صوبہ ہزارہ،باقی 12 مہینے سیاسی جماعتیں، ہزارہ کاز کہاں چلا گیا؟

صوبہ ہزارہ کے لیے چلائی جانے والی تحریکوں کا کردار 12 اپریل منانے تک محدود ہوگیا۔ ہر دفعہ 12 اپریل کو پریس کانفرنس اور جلسوں کا اہتمام کیا جاتا ہے اور پھر سال کے بارہ مہینے ہزارہ کاز کو ایک طرف رکھ کر اپنی اپنی سیاسی جماعتوں کے نظریات کا پرچار کیا جاتا ہے۔ اس وقت ہزارہ صوبے کی تحریک کئی دھڑوں میں تقسیم ہوچکی ہے۔بابا حیدر زمان کے دور میں ہی جب تحریک کو رجسٹر کرایا گیا تو سیاستدانوں نے اس سے علیحدگی اختیار کرلی کیونکہ بابا نے لازم قرار دیا تھا کہ جو بھی سیاستدان ہزارہ کاز کے لیے جدو جہد کررہے ہیں، وہ تحریک صوبہ ہزارہ کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑیں گے۔ بعد ازاں تحریک میں تقسیم در تقسیم کا عمل شروع ہوا۔ حال ہی میں ایک دھڑا تورغر سے تعلق رکھنے والے سابق ایم پی اے زرگل خان کی قیادت میں ابھرا ہے جس نے ایک ماہ قبل اسلام آباد میں منعقدہ اجلاس میں اپنی کابینہ کا اعلان کیا۔ اس کابینہ میں نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ممالک سے کوآرڈنیٹرز کا تقرر بھی کیا گیا۔ دوسری جانب سابق وفاقی وزیر اور مانسہرہ سے موجودہ ایم پی اے سردار محمد یوسف نے گذشتہ روز 12 اپریل کے حوالے سے ایک بار پھر پریس کانفرنس کی اور ہزارہ کاز کو منطقی انجام تک پہنچانے کا اعلان کیا۔ ان کے ہمراہ مسلم لیگ نون کے سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی مرتضیٰ جاوید عباسی سمیت جماعت اسلامی ایبٹ آباد کے رہنما عبد الرزاق عباسی بھی تھے۔ یہاں پر یہ امر قابل ذکر ہے کہ صوبہ ہزارہ تحریک بھی مسلم لیگ نون کے ایک دھڑے تک محدود ہوگئی ہے جس میں کئی سرکردہ قائدین کی نمائندگی نظر نہیں آئی۔ ہزارہ کے عوام نے علیحدہ صوبے کے لیے چلائی جانے والی تحریکوں کے مختلف حصوں میں بٹنے کو سخت ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا ہے۔ ایک سروے میں مختلف مکاتب فکر کے افراد نے کہا کہ جو لوگ گیارہ سالوں سے سانحہ 12 اپریل کی ایف آئی آر تک درج نہ کراسکے، وہ صوبہ کیسے حاصل کریں گے؟ عوام نے مزید کہا کہ ہر سیاسی جماعت جب اقتدار میں ہوتی ہے تو صوبہ ہزارہ کو بھول جاتی ہے اور ہر اپوزیشن اس ایشو کو کیش کرتی ہے۔ سروے میں سنجیدہ حلقوں نے مزید کہا کہ ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ کوئی اس کاز کو کیش کرار رہا ہے یا واقعی مخلص ہے۔ستم ظریفی تو یہ ہے کہ یہ سب کچھ انہیں 12 اپریل کو ہی کیوں یاد آتا ہے؟ اس سے تو یہی عکاسی ہوتی ہے کہ سیاستدان صرف رسمی طور پر اس دن تقریبات کا انعقاد کرتے ہیں تاکہ عوامی ردعمل سے بچ سکیں اور ان کا سیاسی کیرئیر محفوظ ہو۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ان تمام دھڑوں کے پاس اس وقت سٹریٹ پاور نہیں، نہ ہی انہیں بڑی تعداد میں کارکنوں کی ہمدردیاں حاصل ہیں۔ ایسے میں الگ صوبے کے لیے کی جانے والی جدوجہد سوالیہ نشان بن گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں