234

ایبٹ آباد : پین کا احتجاجی مظاہرہ، حکومت کو تعلیمی ادارے کھولنے کے لیے 8 اپریل کی ڈیڈ لائن

ایبٹ آباد:پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک نے سکول بندش پر احتجاجی مظاہرہ ،ریلی، ودھرنا میں 8اپریل تک نجی تعلیمی ادارے کھولنے کی ڈیڈ لائن دی ہے،نوٹیفیکیشن جاری نہ ہونے پر ضلع کے تمام سکولز کو بند کرکے چابیاں ڈپٹی کمشنر کو دینے کا اعلان کیا ہے،ہفتہ کے روز ضلعی بھر کے تعلیمی اداروں کے سربراہان ،خواتین ومرد اساتذہ والدین کثیر تعداد میں احتجاجی مظاہرہ کیا،کورونا ایس او پیز کی آڑ میں تعلیمی اداروں کی بندش پر احتجاجی ریلی نکالی بھی نکالی، ڈپٹی کمشنر آفس کے بائر دھرنا دیتے ہوئے نجی سکولز کھولنے کا مطالبہ کر دیا ،اس موقع پررکن پرائیوٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی ہزارہ کے شوکت محمود نے بھی خصوصی شرکت کی ، پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک کے ضلعی صدر نقیب اللہ خان جدون ،جنرل سیکرٹری راجہ قدیر اقبال نے مظاہرین کی قیادت کرتے ہوئے کہا کہ 8اپریل تک ادارے کھولنے کا نوٹیفیکیشن جاری نہ کیا گیا تو ضلع کے تمام نجی سکولز کی چابیاں ڈپٹی کمشنر کے سپرد کریں گے، انہوں نے نجی اداروں میں ضلعی انتظامی افسران کے چھاپوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سکولز میں ملک کے مستقبل نونہالوں کو تعلیم دی جاتی ہے، کوئی خلاف قانون کاروبار نہیں ہو رہا ہے ،انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر ضلعی انتظامیہ نے چھاپوں کا سلسلہ بند نہ کیا تو سکول جانے والے افسران کا اسی ادارے میں گھیراؤ کریں گے جس کی زمہ داری انتظامیہ پر ہوگی،احتجاجی مظاہرے میں پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک (پین)کے سینئر رہنما محمد حنیف ،زیشان خان،محمد پرویز صدر ،فضل حق جنرل سیکرٹری ،عقیل سواتی تحصیل صدر مانسہرہ،اکمل جیلانی ،رحمت تنولی ،زاہد تنولی ،عقیل خان،مدثر میر ،راشد مغل ،شاہد اقبال ،سردار زکاءالدین ،شمعروز خان،ایاز عباسی ،سردار عبدالرشیداور دیگر نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ حکومت کی پالیسیاں تعلیم دشمن ہیں،دنیا میں کہیں کورونا کی وجہ سے تعلیمی ادارے بند نہیں ہیں، واحد پاکستان ہے جہاں دنیا کا کاروبار ہفتہ میں دو دن اور تعلیمی ادارے پورا ہفتہ بند کئے گئے ہیں، اس طرح کا دوہرا معیار کسی طور پر قبول نہیں ہے،ضلعی صدر نقیب اللہ خان کا کہنا تھا کورونا کی وباء کی احتیاطی تدابیر پرنجی تعلیمی اداروں نے عمل کرکے دکھایا ہے،طلبہ کی تربیت سے والدین کو بھی گھروں میں آگاہی حاصل ہوتی ہے،لیکن حکومت نے تعلیمی اداروں کو بند کرکے بچوں کو گلی محلوں میں آزاد چھوڑ دیا ہے جس سے ایک نسل تباہ ہر رہی ہے ،انہوں نے کہا کہ حکومت کے آئین 25A کے تحت بنیادی تعلیم کی فراہمی ریاست کی زمہ داری ہے لیکن اس کے برعکس دنیا میں پاکستان میں کروڑوں بچے بنیادی تعلیم سے محروم ہیں ،نجی تعلیمی ادارے حکومت کی زمہ داری پوری کرتے ہوئے معیاری تعلیم کے علاوہ روزگار بھی دے رہی ہے، بجائے خدمات کے اعتراف کے الٹا طرح طرح کے معاملات میں الجھایا جا رہا ہے، جس کے باعث ضلع ایبٹ آباد جو سکولوں کا شہر کہلایا جاتا ہے سینکڑوں ادارے معاشی تنگدستی سے بند ہو چکے ہیں، انہوں نے حکومت کو ڈیڈ لائن دیتے ہوئے کہا کہ 8اپریل تک اداروں کو نہ کھولا گیا تو تمام سکولز بند کرکے چابیاں ڈپٹی کمشنر کے سپرد کریں گے، جو پہلے ہی سرکاری تعلیمی اداروں کو چلا نہیں سکتے ہیں۔ادھر احتجاج میں مظاہرین نے پلے کارڈ اور بینرز بھی اٹھا رکھے تھے ،جس میں اپنے مطالبات کے مختلف نعرے بھی درج تھے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں