39

صنوبر(پائن) درخت کے پتوں سے آلودگی کی خبر مل سکتی ہے

یونیورسٹی آف یوٹاہ کے ماہرین نے ثابت کیا ہے کہ خود درختوں کے پتے آلودگی کا سینسر بن سکتے ہیں۔ گاڑیوں کے دھویں اور رکازی ایندھن جلنے کے بعد معمولی مقدار میں مقناطیسی ذرات خارج ہوتے ہیں جو پتوں پر جمع ہوکر آلودگی کا ثبوت بنتے رہتے ہیں۔ اس طرح پتوں کو دیکھ کر اطراف کی ہوا اور فضا کے معیار کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

درختوں پر جمع ہونے والے پتے شہری علاقوں میں ہوا کے معیار کی خبر دے سکتے ہیں۔ تاہم مقناطیسی ذرات اتنے باریک ہوتے ہیں کہ عام آنکھ سے دکھائی نہیں دیتے اور انہیں حساس مقناپیما (میگنیٹومیٹر) سے ہی نوٹ کیا جاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ میگنیٹو میٹر ماہرِ ارضیات مختلف تحقیقات میں استعمال کرتے ہیں۔ اس کے بعد سائنسدانوں نے یونیورسٹی آف یوٹاہ کے کیمپس سے اپنی تحقیق کا آغاز کیا۔
سائنسدانوں نے صنوبر(پائن) کے درخت کے نوکدار ابھار جمع کئے جو کیمپس کے احاطے میں لگے درختوں سے اتارے گئے تھے۔ ان میں سے تین درخت سڑک کنارے واقع تھے جہاں روزانہ ٹریفک گزرتا ہے جبکہ چوتھا درخت ٹریفک سے دور تھا۔ لیکن اس کا موازنہ اس دور سے بھی کیا گیا جب روایتی آلات نے یوٹاہ میں ہوا کا معیار بہتر اور بدتر ثابت کیا تھا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں