166

حکومت نجی تعلیمی اداروں کو ایس او پیز کے ساتھ کھولے: مالکان کا مشترکہ مطالبہ

نجی تعلیمی اداروں کو نہ کھولا گیا تو تعلیمی بحران کا خدشہ ہے پچیس لاکھ بچوں کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوچکی ہیں ڈیڑھ لاکھ ملازمین اس وقت کمپہری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں حکومت نے لاک ڈاون ختم نہ کیا تو احتجاج کے ساتھ عدالت کا دروازہ کٹھکٹھائیں گے ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز ایبٹ آباد پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پرائیویٹ سکول نیٹ ورک کے صوبائی نائب صدر خورشید احمد تنولی،ضلعی صدر خالقدادخان جدون جنرل سیکٹری شوکت اقبال ،غلام جیلانی،ذیشان خان،محمد نعیم اعوان،نقیب اللہ خان ،شہریار میرکے علاوہ سکولز مالکان نے کیا انہوں نے حکومت کو خبردارکیا ہیکہ وہ تعلیمی اداروں کو کھولنے کے لیے ایس او پیز جاری کرے اس پر من وہن عمل درآمد کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی تمام سفارشات حکومت کو پیش کردی ہیں ان کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے جس سے بچوں کا قیمتی سال ضائع نہیں ہوگا اور ڈیڑھ لاکھ ملازمین بھی بیروزگارنہیں ہونگے خورشید احمد ;242; نے کہا کہ 52بلین کی خطیر رقم ایف ای ایف اور ایجوکیشن فاونڈیشن کے پاس موجود ہیں جو ہمارے فنڈز سے حاصل کی گئی ہے ان فنڈز کو پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی ;کو دی جائے جو نجی تعلیمی اداروں میں تقسیم کرے جس سے اساتذہ ،سٹاف اور سکولز عمارت کی کرائے ادا کر سکے اس وقت درجنوں نجی تعلیمی ادارے بند ہورہے ہیں جب یہ ادارے حکومتی بے بسی سے بند ہوگئے تو بیروزگاری میں مذید اضافہ ہوگا تو یہ لوگ مجبوراسڑکوں پر نکلے گے تو کرونا کا مزید خطرہ بڑھ جائے گا انہوں نے کہا کہ اس وقت صوبہ خیبر پختونخواہ میں 86سو تعلیمی ادارے بدحالی کا شکار ہے جو ہمارے مطالبات نہ پورے کیے گئے تو بھرپور احتجاج کرے گے جس میں طلباء طلبات اور ان کے والدین اساتذہ اور سٹاف کے لوگ بھی شامل ہونگے جس کو سنبھالنا حکومت کے بس کی بات نہیں ہوگی انہوں نے کہا کہ عدالت سے بھی رجوع کرکیا جائے گا انہوں نے کہا ہمارا احتجاج مرحلہ وار ہوگا اور صوبائی قیادت کی ہدایت پر بھرپور عمل درآمد کیا جائے گا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں