163

لاک ڈاؤن : نجی سکولوں کے مطالبات تسلیم نہ ہونے پر صوبائی اسمبلی کے باہر احتجاج کا اعلان

ایبٹ آباد میں نجی تعلیمی اداروں کی نمائندہ تنظیم پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک نے کورونا وائرس کے پیش نظر نجی سکولوں کے مطالبات تسلیم نہ ہونے پر کل صوبائی اسمبلی کے باہر احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نجی شعبہ تعلیم کو ختم کرنے کے درپے ہے ۔ اگر ایس اوپیز کے تحت بازار کھل سکتے ہیں تو سکول اس فیصلے سے کیوں مبرا ہیں ۔ حکومت اگر سکول بند ہی رکھنا چاہتی ہے تو ہمیں تین ماہ کی تنخواہیں اور بلڈنگز کے کرایے دے ورنہ شدید احتجاج کے سوا ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں ۔ اس سلسلے میں جمعرات کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پین ایبٹ آباد کے صدر خالق داد خان، جنرل سیکرٹری محمد شوکت، صوبائی نائب صدر پروفیسر خورشید اور دیگر نے کہا کہ پہلے ہی پرائیویٹ سیکٹر کو دیوار سے لگانے کی کوششیں کی جارہی تھیں مگر اب لگتا ہے ایسے لوگوں کے عزائم پورے ہورہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے نتیجے میں ہونے والے لاک ڈاؤن سے نجی شعبہ تعلیم بری طرح متاثر ہوا ہے ۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ حکومت نے بازار اور دیگر تمام مراکز تو ایس او پیز کے تحت کھول دیے ہیں مگر سکول بدستور بند ہیں جبکہ حکام اس ضمن میں مذاکرات سے بھی انکاری ہے ۔ پین کے نمائندوں نے مزید کہا کہ سکول اگر اسی طرح بند رہیں گے تو ہم اساتذہ کو تنخواہیں کہاں سے دیں گے اور بلڈنگز کے کرایے کہاں سے لائیں گے ؟ انہوں نے صوبائی قیادت کی جانب سے پشاور میں اسمبلی کے باہر احتجاج کی حمایت کی اور کہا کہ وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے حقوق کے لیے باہر نکلیں ۔ پین رہنماؤں کا کہنا تھا کہ وہ مطالبات کی فہرست اور ایجنڈا حکومت کو پیش کرچکے ہیں مگر اس حوالے سے تاحال مثبت پیش رفت نہیں ہوئی ۔ پریس کانفرنس کے موقع پر تنظیمی رہنماؤں کے ساتھ ضلع ایبٹ آباد کے مختلف نجی سکولوں کے سربراہان موجود تھے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں