130

نجی سکولوں کی تنظیم نے تعلیمی ادارے ازخود کھولنے کا اعلان کردیا : عرفان طالب

نجی تعلیمی ادارے بند ہو رہے ہیں۔حکومت کرونا وبا کے خاتمے تک سکولوں کو کھولنے کے حوالے سے کسی بھی قسم کی ذمہ داری لینے کے لئے تیار نہیں ہے۔نجی اداروں کی ایسوسی ایشنز نے از خود سکول کھولنے کا اعلان کر دیا ہے۔حکومت نے اداروں کو سیل کرنے کی دھمکی دی ہے۔ کیا اس طرح کی مخاصمت والی پالیسی نجی اداروں کے لئے سودمند ہو گی؟ اب جب کہ کافی حد تک معاشی سرگرمیوں کی اجازت دے دی گئی ہے تو سکولوں کو کھولنے میں کیا مسئلہ ہے؟ نجی اداروں کے لئے کسی بھی قسم کا کوئی ریلیف پیکیج نہیں دیا گیا۔ جس کی وجہ سے اداروں میں مایوسی پھیل رہی ہے –چھوٹے اور کم فیس لینے والے درجنوں ادارے بند ہو رہے ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ حالات کی نزاکت کو دیکھے اور چھوٹے اداروں کے لیئے ریلیف پیکیج کا اعلان کرے۔ ساتھ ہی مواصلاتی اور فاصلاتی تعلیم کے لئےضروری اقدامات کرے۔ معروف ماہر تعلیم عرفان طالب نے ابرار احمد خان، ڈویژنل صدر، اپسما سے فون پر بات کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ حکومت موبائل فون کمپنیوں کو سستے سٹوڈنٹ انٹرنیٹ پیکیج متعارف کروانے پر مجبور کرے۔کمپنیوں کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے چونکہ ان کے صارفین کی تعداد کئی گنا بڑھ جائے گی۔والدین کی سہولت کے لئے طلباء میں ٹیبلٹ تقسیم کئے جائیں تاکہ متوسط اور نچلے طبقے کے افراد بھی اس سے استفادہ کر سکیں۔ عرفان طالب اور ابرار احمد خان کا مشترکہ موقف یہ تھا کہ نجی اداروں کا ڈیٹا صوبائی رجسٹریشن اتھارٹیز کے پاس موجود ہے۔ اور اساتذہ اور طلباء کی تفصیل بھی۔ ہر صوبے میں قائم ایجوکیشن فاؤنڈیشنز کے ذریعے چھوٹے نجی اداروں کی معاونت کی جا سکتی ہے۔ یہ ادارے اس قابل نہیں ہیں کہ غیر معینہ مدت تک اساتذہ کو تنخواہیں دے سکیں۔ والدین بھی فیسوں کی ادائیگی نہیں کر رہے۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اساتذہ کو ایجوکیشن فاؤنڈیشنز سے مدد فراہم کی جائے اور ماضی کی حکومتوں نے جس طرح طلباء کو لیپ ٹاپ دئے تھے یہ حکومت بھی اسی طرز پر کم فیس والے اداروں میں زیر تعلیم طلباء میں ٹیبلٹ تقسیم کرے تاکہ آن لائن تعلیم کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے اور ابھی تک جو تعلیمی نقصان ہو چکا ہے اس کی کسی قدر تلافی ممکن ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں