94

بچوں کے حوالے سے جرائم میں اضافہ، ہزارہ میں روزانہ متعدد مقدمات کا اندراج

محفوظ بچے روشن مستقبل مہم کے حوالہ سے ہزارہ پولیس کے زیر اہتمام جلال بابا آڈیٹوریم میں آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا ، سیمینار میں مہمان خصوصی ڈی آئی جی ہزارہ میر ویس نیاز تھے جب کہ اس موقع پر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ظہور بابر آفریدی،ایس پی ٹریفک طارق خان،ایس پی انوسٹی گیشن اشتیاق خان کے علاوہ مختلف محکموں کے سربراہان ،ڈاکٹرز،وکلاء،صحافیوں، تاجر رہنماؤں ،سماجی تنظیمیں ،خواتین اور طلبہ کی بڑی تعداد موجود تھی،سیمینار میں معاشرے میں بچوں کے ساتھ تشدد کے واقعات کی روک تھام کے لئے تفصیلی روشنی ڈالی گئی اور اس طرح کے بڑھتے ہوئے واقعات میں معاشرے کا رویہ،والدین کی زمہ داری اساتذہ کے کردار اور پولیس کے اقدامات پر مقررین نے گفتگو کی، ڈی آئی جی ہزارہ میر ویس نیاز کاکہنا تھا ریجن میں بچوں بچیوں کے ساتھ واقعات معمول بنے ہوئے ہیں روزانہ ہزارہ سے آٹھ مقدمات درج ہو رہے ہیں اور یہ حالات خبردار کر رہے ہیں ،ڈی آئی جی میر ویس نیاز کا کہناتھا بچوں پر بے جا سختی سے معاشرے میں واقعات رونما ہو رہے ہیں وہ والدین کو اپنے ساتھ ذیادتی کا بتا نہیں پاتے،اس کے لئے ضروری ہے کہ معاشرے کے تمام افراد مل کر پولیس کے ساتھ تعاون کریں انہوں نے کہا کہ پولیس بچوں کے تحفظ کے لئے سنجیدہ اقدامات اٹھا رہی ہے،ریجن میں بچوں پر تشدد کی روک تھام کے لئے ان سے پہلے ڈی آئی جی ہزارہ نے جو مہم شروع کی اس کو جاری رکھے ہوئے ہیں،سیمینار میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ظہور بابر آفریدی نے بھی اپنے خطاب میں بچوں کے تحفظ کے بارے میں اٹھائے گئے اقدامات پر تفصیل سے آگاہ کیاسیمنیار میں
پولیس عوام ساتھ ساتھ کے پراجیکٹ ڈائریکٹر نے اس بات پر زور دیا کہ ملک بھر میں کمیونٹی پولیسنگ کو فروغ دیا جارہا ہے ،معاشرے کےمختلف طبقات سے مل کر مسائل کو حل کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں،معاشرے میں جرائم کی شرح کے مطابق رپورٹ نہیں ہو رہے ہیں،اس کے لئے تبدیلی کا سفر اپنے آپ سے شروع کریں اور بچوں کے حقوق کا دفاع کریں،جب کہ اس پر بین الاقوامی سطح پے قوانین پر سب کا اتفاق ہے،بچے والدین اور اساتذہ میں اعتماد کا رشتہ برقرار رکھنے کی ضرورت ہے،جس کے معاشرے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے، یہاں اس بات کا اعتراف کیا گیا کہ بچوں پر تشدد کے واقعات میں اکثریت بے احتیاطی ہے جس میں قریبی ماحول کے افراد کو ملوث پایا گیا ہے،اگاہی سیمینار میں بچوں کے تشدد کے حوالہ سے خاکے بھی پیش کئے گئے اور مختلف شعبہ جات کے ماہر افراد کی گفتگو کا سیشن بھی رکھا گیا۔اختتام پر ہزارہ پولیس کی جانب سے شیلڈز بھی دی گئیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں