111

وزیراعلیٰ نے ہزارہ کے دور دراز علاقوں میں صحت اور تعلیم کے مسائل پر رپورٹ طلب کرلی

پشاور(بیورورپورٹ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے ہزارہ ڈویژن کے تمام اضلاع میں دور افتادہ اور دیہاتی علاقوں میں بنیادی مراکز صحت اوردیہی مراکز صحت کے علاوہ سکولوں کے مسائل کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ ایک ہفتے کے اندر پیش کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ صحت کے اداروں کو صحیح معنوں میں فعال بنانے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اُٹھائے جائیں گے ۔ اُنہوں نے کہا ہے کہ منتخب عوامی نمائندوں کی طرف سے ان کے حلقوں میں نشاندہی کردہ عوامی مفاد کے حامل اہم منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا اور اُن کی بروقت تکمیل کیلئے مالی وسائل کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا ۔ اُنہوں نے کہاکہ صوبے کے مختلف اضلاع میں عوامی مسائل کے ازالے اور ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لینے کیلئے ہر ماہ ڈویژن وائز اجلاس منعقد کیا جائے گا جس میں سابقہ اجلاس کے فیصلوں پر عمل درآمد کا جائزہ بھی لیا جائے گا ۔ صوبائی حکومت صوبے کی یکساں ترقیاتی حکمت عملی کے تحت تمام اضلا ع میں جاری منصوبوں کی تکمیل کیلئے نہایت سنجیدہ ہے جس کے لئے دستیاب تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے گذشتہ روز ہزارہ ڈویژن کے حوالے سے ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ سپیکر صوبائی اسمبلی مشتاق احمد غنی ، ممبران صوبائی کابینہ اکبر ایوب خان ، حاجی قلندر لودھی ، تاج محمد ترند اور سید احمد حسین شاہ کے علاوہ ہزارہ سے تعلق رکھنے والے ارکان صوبائی اسمبلی اور متعلقہ صوبائی ، وفاقی محکموں کے اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔ اجلاس میں ہزارہ ڈویژن کے اضلاع میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور عوام کو درپیش مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیا ل کیا گیا ۔ اجلاس کو ہزارہ ڈویژن کے ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے بریفینگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہزارہ کے مختلف اضلاع میں مجموعی طو رپر 74 ارب روپے سے زائدکی لاگت کے 226 ترقیاتی منصوبے رکھے گئے ہیں، جن کیلئے رواں سالانہ ترقیاتی پروگرام میں 7.956 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جن میں سے مختلف منصوبوں کیلئے اب تک تقریباً5 ارب روپے جاری کئے جاچکے ہیں۔ مختلف اضلاع کی آبادی اور عوامی ضروریات کو مدنظر رکھ کر ترقیاتی حکمت عملی تشکیل دی گئی ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں