349

تیندوے کی کہانی: لوگ کیا کہتے ہیں؟

بکوٹ میں تیندوے کے حملے میں ایک شخص کے بلندی سے گرکر زخمی ہونے کے بعد مختلف قسم کی آرا سامنے آرہی ہیں۔ یہ واقعہ چند دن قبل بکوٹ کی یونین کونسل پلک میں پیش آیاجس کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ ویڈیو میں ایک معمر شخص تیندوے کو ڈنڈے مارتا ہے جس پر تیندوا مشتعل ہوکر اس پر حملہ کردیتا ہے اور وہ اپنی جان بچانے کی کوشش میں بلندی سے گر کر شدید زخمی ہوجاتا ہے۔ بعد ازاں گاؤں والے ہجوم کی شکل میں تیندوے پر حملہ آور ہوجاتے ہیں اور اسے ڈنڈوں کے وار سے ہلاک کردیتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق زخمی ہونے والا رحیم گل تاحال ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ادھر محکمہ جنگلی حیات کی جانب سے تیندوے کو ہلاک کرنے والے افراد کے خلاف مقدمے کا اندراج بھی کرایا گیا ہے۔ اس واقعے کو سوشل میڈیا پر مختلف انداز میں لیا جارہا ہے۔ کچھ لوگوں کا موقف ہے کہ تیندوے کا آبادی کا رخ کرنا درحقیقت محکمہ جنگلی حیات کی نااہلی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ محکمہ جنگلی حیات نے جنگلوں میں تیندوے تو پال رکھے ہیں مگر ان کے لیے خوراک کا خاطر خواہ انتظام نہیں کیا جاتا جس کے نتیجے میں وہ آبادی کا رُخ کرتے ہیں۔ ایک دوسرے حلقے کے نزدیک بے زبان جانور کو اندھا دھند ڈنڈوں کے وار کرکے ہلاک کرنا زیادتی ہے۔ بعض نے موقف اختیار کیا ہے کہ تیندوا جھاڑیوں میں چھپا ہوا تھا۔ ایسے میں لوگوں کا ہجوم کی شکل میں اس پر حملہ آور ہونا دانشمندی نہیں تھی۔ چاہیے تو یہ تھا کہ متعلقہ محکمے کو اطلاع دی جاتی مگر کسی نے بھی اس کی ضرور ت محسوس نہیں کی اور اپنے تئیں تیندوے کو ہلاک کردیا گیا جس کے باعث ضعیف العمر شخص کو شدید چوٹیں آئیں۔ ایسی خطرناک صورت حال میں عین ممکن تھا کہ تیندوا دیگر کئی افراد پر بھی حملہ کردیتا جس کے باعث نقصان بڑھنے کا اندیشہ تھا۔ ایک حلقے کایہ بھی خیال ہے کہ ماراجانے والا تیندوا نایاب نسل سے تعلق رکھتا ہے جس کے تحفظ کے لیے اقدامات کرنا محکمہ جنگلی حیات کا فرض ہے مگر متعلقہ افسران اپنی ذمہ داریاں بطریق احسن نہیں نبھا رہے۔
ان تمام تر پہلوؤں کے باوجود یونین کونسل پلک کے معززین نے تیندوے کے آبادی میں داخل ہونے اور گاؤں والوں کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ان کے مطابق اس سے پہلے بھی قریبی جنگل سے تیندوے آبادی میں داخل ہوکر گاؤں والوں پر حملے کرتے رہے ہیں جن میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع بھی ہوا ہے۔ایسی صورت میں ان کے پاس اپنا دفا ع کرنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ۔
اس واقعے پر گلیات سے انسانی حقوق کمیشن کے رکن سردار شبیر نے گذشتہ روز پریس کانفرنس بھی کی اور مروجہ قوانین کی روشنی میں گاؤں والوں کے موقف کی تائید کی۔ سردار شبیر نے اس امر کی نشان دہی کی کہ تیندوا انسانی آبادی میں گھس آیا تھا لہذا وہاں موجود لوگوں نے اپنے دفاع میں اس پر حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلیات میں تیندوا نایاب نہیں، محکمہ جنگلی حیات کو چاہیے کہ انہیں قابو کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ جنگلی حیات نے دباؤ میں آکر اہل علاقہ کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی جسے فی الفور خارج کیا جائے۔
موجودہ تناظر میں سنجیدہ حلقوں کا کہنا ہے کہ انسان کی جان درندے سے زیادہ قیمتی ہے۔ اگر درندہ آبادی کا رخ کرکے گاؤں کے مکینوں پر حملہ کرے تو اسے مارا جاسکتا ہے۔ چنانچہ تمام تر ذمہ داری محکمہ جنگلی حیات پر عائد ہوتی ہے کہ اس نے اب تک تیندووں کے حوالے سے سنجیدہ حکمت عملی کیوں مرتب نہیں کی۔ ان حلقوں نے مزید کہا ہے کہ یا تو پاکستان میں جنگلی حیات کے تحفظ کا قانون نہ ہو اور اگر ہو تو اس کا اطلاق بھی کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ جنگلات کے قریب آباد لوگوں کے تحفظ کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں ورنہ یہ مسئلہ مستقبل میں بھی جوں کا توں رہے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں