160

سکل ڈویلپمنٹ سنٹرز کی کارکن خواتین کا تحریک انصاف حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

تحریک انصاف کی حکومت نے خیبر پختونخوا ویمن سکلز ڈویلپمنٹ سنٹر زکے کنٹریکٹ کی توسیع روک کر صوبہ بھر کے ایک سو زاہد خاندانوں کو بے روزگار کرنے کا منصوبہ بنا لیا جس کے خلاف ایبٹ آباد سمال انڈسٹری میں خواتین نے احتجاجی مظاہرہ کر کے ریلی بھی نکالی، خواتین کو معاشی طور پر مستحکم کرنے کے لئے 2007 میں خیبر پختونخوا ویمن سکلز ڈویلپمنٹ پروگرام شروع کیا گیا جس سے صوبہ بھر میں ہزاروں خواتین کو ان سنٹرز میں ریڈی میڈ گارمنٹس،کشیدہ کاری ،ڈریس ڈیزائنگ،کٹنگ،ٹیلرنگ کی تربیت دی جاتی ہے،جہاں خواتین کو عملی زندگی میں خاندان کی کفالت میں مردوں کے شانہ بشانہ گھر کی دہلیز پر کام کا موقع ملتا ہے،موجودہ صوبائی حکومت نے مزکورہ پروگرام کی توسیع نہ کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے جس سے صوبہ بھر کے 24 سنڑز میں موجود 109 کے قریب عملہ بھی بے روزگار ہوگا،اور کروڑوں روپے کا فرنیچر اور مشینری بھی ضائع ہو جائے گی،اس حوالے سے ایبٹ آباد میں خواتین نے احتجاجی مظاہرہ کیا جس کی قیادت ایس آئی ڈی بی ایمپلائز یونین سی بی اے کے جنرل سیکرٹری حاجی فضل خدا نے کی اس موقع پر سنٹر انچارج تلہٹہ مس فرحت ناز،انچارج ایبٹ آباد مس رقیہ،انچارج سنٹر بکوٹ صائمہ،انچارج جرید شازیہ نے بھی خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کے ہزارہ کے چار سنٹرز میں ہر مہینہ میں چار سو سے زاہد خواتین کو ہنر مند بنایا جاتا ہے ۔صوبائی حکومت روزگار دینے کے بجائے روزگار چھیننے کی پالیسی پر گامزن ہے ملک میں خواتین آبادی کے تناسب میں مردوں سے زیادہ ہیں حکومت خواتین کو روزگار کے زرائع مہیا کرنے کے بجائے پہلے سے موجود زرائع ختم کرنے سے اجتناب کرے اور خیبر پختون ویمن سکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کو کنٹریکٹ کے بجائے مستقل کرے جس طرح سوشل ویلفئیر سمیت دیگر ادارے موجود ہیں ،جنرل سیکرٹری آئی ڈی بی ایمپلائز یونین سی بی اے حاجی فضل خدا کا کہنا تھا حکومت فنڈ کی کمی کا بہانہ بنارہی ہے پہلے بھی 134 ملین فنڈ میں سے پچاس فیصد روک رکھا ہے اس حوالے سے حکومت فنڈ جاری کرے تو تنخوائیں پوری ہو سکتی ہیں اگر روش برقرار رہی تو احتجاج کا دائرہ کار صوبے تک بڑھائیں گے جس کی زمہ داری حکومت پر ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں