166

قبضہ مافیا کو کھلا نہیں چھوڑیں گے:ظہور بابر آفریدی، ڈی پی او

ایبٹ آباد:ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ظہور بابر آفریدی نے کہا ہے کہ ایبٹ آباد میں تجاوزات اور ٹریفک کا بہت دباؤ ہے،منشیات فروشوں ،تجاوزات مافیا کو گھروں میں بھی نہیں رہنے دیں گے،شہر میں ٹریفک پولیس میں بھرتی کے لئے 7سو کی نفری کی منظوری لی جا چکی ہے،ٹی ایم اور ضلعی انتظامیہ سے مل کر ٹریفک کے معاملات کو حل کریں گے،شہر میں 80فیصد مسائل سول میٹرز ہیں،جس کا فوری حل ممکن نہیں ہوتا،ایبٹ آباد میں قبضہ مافیا کو کھلا نہیں چھوڑیں گے،عوام کے تعاون سے ڈرگ فری ضلع بنائیں گے،ان خیالات کااظہار انہوں نے یہاں ایبٹ آباد تھانہ کینٹ میں منعقدہ کھلی کچہری میں خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر ایس ایس پی ٹریفک طارق خان ،ایس پی انوسٹی گیشن اشتیاق خان ،سرکل ڈی ایس پی راجہ محبوب،ایس ایچ او کینٹ کے علاوہ عمائدین شہر ،ال ٹریڈرز فیڈریشن کے صدر سردار شاہ نواز ،جنرل سیکرٹری سجاد خان ، آل ٹریڈرز علی اصغر خان گروپ کے صدر ثاقب خان ،مفتی جعفر طیار کے علاوہ ممبران لیزان کمیٹی بھی موجود تھے،ڈی پی او ظہور بابر آفریدی کا کہنا تھا قانون میں سقم کا درخواست گزار فائدہ اٹھاتے ہیں ،پولیس کا کام جان کا تحفظ ہے ،عدالت کی جانب سے بھی احکامات پر عمل درآمد کے لئے بیلف کو پولیس تحفظ دیتی ہے،اس میں پولیس کا کردار نہیں ہے ،ڈی پی ظہور بابر آفریدی کا کہنا تھا روایات میں خوبصورت پہلو جرگہ ہے، جو پولیسنگ کا اہم جزو کھلی کچہری بن گیا ہے،جس میں مسائل کو مل بیٹھ کر حل کیا جاتا ہے ،موجودہ تیزرفتار وقت نے بہت سی روایات کو دبا لیا ہے ،آئی جی خیبر پختونخوا کی ہدایات پر کھلی کچہریاں بہترین اقدام ہے ،ایبٹ آباد میں تعیناتی کے بعد پہلی کھلی کچہری ہے اس بات کی خوشی ہے کہ ایبٹ آباد پولیس کی بہترین ٹیم موجود ہے ،انہوں نے کہا کہ ایبٹ آباد پرامن شہر ہے جو خیبر پختون خوا کا پرامن ترین ضلع ہے ،جرائم کی شرح بھی دوسرے اضلاع سے کم ہے،ضلع میں جہاں تمام اقوام کا گلدستہ ہے جو مختلف کاروبار سے وابستہ ہیں،اس سے پہلے جس اضلاع میں بھی نوکری کی تو تمام شعبوں میں ایبٹ آباد سے کوئی نہ کوئی تعلق رہنے والوں سے ملاقات رہی ہے،اس کی بنیادی وجہ یہاں کے لوگ اعلی تعلیم یافتہ ہیں،ڈی پی او ظہور بابر آفریدی کا کہنا تھا یہاں کے معاشرتی طرز زندگی سے بخوبی آگاہ ہیں رسم رواج ،رہہن سہن کے مطابق سہولیات فراہم کریں گے،انہوں نے کہا کہ جرائم کو ختم کرنے میں عوامی تعاون درکار ہے ،ایسے افراد کے قلع قمع کرنے کے لئے سوشل بائیکاٹ کریں، اس میں نسلوں کی بقاء ہے،اگر چھوٹے سے شہر کو ڈرگ فری نہیں بنا سکتے تو پولیس کی ناکامی ہے،انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ منشیات فروشوں کو تحفظ دینے کے لئے پولیس میں کسی کو ملوث دیکھا تو وہ نوکری نہیں کر سکے گا،منشیات کے خلاف جنگ جیتنے کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھائیں گے ،اس کے لئے میڈیا بھی نشاندہی کرے سختی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ آئس نوجوان نسل کو تباہ کر رہی ہے ایسے افراد اپنے ہی خاندان کی زندگیوں کے لئے خطرہ ہیں۔گلی محلے میں رہنے والے جرائم پیشہ افراد کے مکان مالکان پر بھی پرچے دیں گے۔انہوں نے کہا کہ ایبٹ آباد میں بچوں سے زیادتی کے واقعات کی شرح زیادہ ہے جو اعلی تعلیم یافتہ افراد کے شہر میں بدقسمتی کی بات ہے،اس کے لئے مساجد ،لیزان کمیٹیوں میں اس معاملے کو اٹھائیں،اس میں والدین کی بھی کوتاہی ہے۔ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں۔کیوں ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔اس موقع پر تاجر رہنماؤں ،عمائدین نے بھی ڈی پی او کو مختلف مسائل سے آگاہ کیا اور اپنی تجاویز پیش کیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں